کوسوو:وزیراعظم تھاچی کا جیت کا دعوٰی

ہاشم تھاچی
Image caption ہاشم تھاچی کی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی آف کوسوو کو اکتیس فیصد ووٹ ملے ہیں

کوسوو میں سربیا سے آزادی کے تین سال بعد منعقد ہونے والے پہلے پارلیمانی انتخابات میں وزیراعظم ہاشم تھاچی نے فتح حاصل کرنے کا دعوٰی کیا ہے۔

انہوں نے یہ اعلان اپنے حامیوں سے خطاب کے دوران کیا۔

انتخابی نتائج کے اندازوں کے مطابق ہاشم تھاچی کی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی آف کوسوو کو اکتیس فیصد ووٹ ملے ہیں جبکہ ان کی مخالف ڈیموکریٹک لیگ آف کوسوو نے پچیس فیصد ووٹ لیے ہیں۔

اگر ان نتائج کی تصدیق ہو جاتی ہے تو ہاشم تھاچی کو حکومت سازی کے لیے دیگر جماعتوں کی مدد درکار ہوگی۔ انتخابی اندازوں کے مطابق طلبہ سیاست سے ملکی سیاست میں داخل ہونے والے ایلبن کرتی کی سیلف ڈٹرمینیشن پارٹی نے سولہ فیصد ووٹ لیے ہیں۔

کوسوو کے سرکاری ٹی وی پر نشر کی جانے والی تقریر میں ہاشم تھاچی نے کہا کہ ان کی جماعت کی جمہوری اقدار کو ایک بڑی فتح ملی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’آج کوسوو کے عوام نے واضح فیصلہ دیا ہے اور آج یورپی کوسوو بول اٹھا ہے‘۔

کوسوو کے مرکزی الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ان انتخابات میں ووٹنگ کی شرح اڑتالیس فیصد رہی جبکہ سنہ 2007 کے انتخابات میں یہ شرح چالیس فیصد تھی۔

ان انتخابات کے موقع پر کوسوو کے اکثریتی البانوی آبادی اور اقلیتی سرب باشندوں کے درمیان خلیج بدستور موجود ہے۔

سربیا نے کوسوو کی آزادی کو اب تک تسلیم نہیں کیا ہے اور کوسوو کے شمال کے برعکس باقی علاقوں میں رہنے والے سرب نسل کے لوگوں نےانتخابات کا بائیکاٹ نہیں کیا۔

کوسوو کی آبادی بیس لاکھ ہے جس میں سے سرب آبادی صرف ایک لاکھ بیس ہزار ہے۔ ایک سرب ووٹر نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ’میں خوشحالی کے لیے پرامید ہوں۔ میں اب تک اپنی جماعت سے مطمئن رہی ہوں۔ یہ واضح ہے کہ انہوں نے محدود وسائل سے بہت کچھ کیا اور ہم اپنے بہتر مستقبل کے لیے پرامید ہیں‘۔

کوسوو میں یہ قبل از وقت انتخابات اکتوبر میں اس وقت کی حکومت کی اتحادی جماعت ایل ڈی کے کے حکومت سے علیحدہ ہو جانے کی وجہ سے منعقد ہوئے ہیں۔

.

اسی بارے میں