فلسطینی بچوں کی ’غیر قانونی‘ گرفتاریاں

اسرائیل میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم کا کہا ہے کہ اسرائیل کی پولیس مبینہ طور پر ایک منظم طریقے سے اپنے ہی قوانین کو پامال کرتے ہوئے پتھر پھینکے کے جرم میں کم عمر بچوں کو رات کےوقت ان کے گھروں سے اٹھا لیتی ہے اور ان کے والدین کی عدم موجودگی میں ان سے تفتیش کی جاتی ہے۔

بیت سالم نامی اس تنظیم نے سوموار کو جاری کردہ اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ مقبوضہ مشرقی یروشلم کے علاقے سلوان میں جہاں فلسطینی اور یہودی آبادکاروں کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے اسرائیلی پولیس کا فلسطینی بچوں کا رویہ انتہائی نامناسب اور اسرائیلی قوانین کے خلاف ہے۔

مشرقی یروشلم کے علاقوں میں یہودی آباد کاروں اور فلسطینیوں کے درمیان شدید کشیدگی پائی جاتی ہے اور اس کشیدگی میں پتھراؤ میں کم عمر فلسطینی بچے بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ بیت سلم کےمطابق نومبر دو ہزار نو سے اکتوبر دو ہزار دس کے عرصے میں پتھر پھینکے کے جرم میں کم از کم اکاسی فلسطینی بچوں کو اسرائیلی پولیس نے گرفتار کیا جن میں ایک پانچ سالہ بچہ بھی شامل تھا۔

بین الااقومی خبررساں ایجنسیوں کے مطابق بیت سالم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل پولیس بچوں کو قانون میں حاصل حقوق اور تحفظ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رات کے وقت ان کے گھروں سے انھیں گرفتار کیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ رات کے پچھلے پہربچوں کو ان کے گھروں میں بستروں سے اٹھا کر انھیں تفتیشی مراکز میں لے جایا جاتا ہے جہاں ان سے گزشتہ دنوں میں پیش آنے والے کسی واقعہ کے بارے میں پوچھ گچھ کیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اکثر بچوں نے دوران تفتیش پولیس کی طرف سے تشدد کیئے جانے کی بھی شکائت کی ہے۔

بیت سالم کے مطابق ان بچوں کی شکایت کو یکسر مسترد کر دیا جاتا ہے اور پولیس کی تحقیقات کے ادارے کی طرف سے جن شکایت نے تحقیقات شروع کرنے کا اعلان بھی کیا ان پر کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

بیت سالم کا کہنا ہے کہ انھوں نے چار ایسے واقعات کی تفصیلات اکھٹا کی ہیں جن میں حراست میں لیے جانے والے بچوں کی عمر بارہ سال سے کم عمر کی تھی اور جواسرائیل کے قانون کے تحت مجرمانہ کارروائی کی عمر میں نہیں آتے۔

اس تنظیم نے کہا کہ ایک واقعہ میں ایک آٹھ سالہ بچے کو آدھی رات کے بعد اس کے گھر سے اس لیے حراست میں لے لیا گیا کہ کیونکہ اس کا نام پتھر پھیکنے کے واقعات میں ملوث ایک دوسرے بچے سے ملتا تھا۔

بیت سالم نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کی پولیس فوری طور پر بچوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ بند کرے۔

پولیس کے ترجمان میکی روزنفیلڈ نے بیت سلم کی طرف سے لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ گرفتاریاں اسرائیل کے قوانین کے تحت کی جاتی ہیں۔

انھوں نے فرانسیسی خبررساں ادارے کو بتایا کہ جتنے بھی بچوں کو گرفتار کیا گیا ہے انھوں نے پتھراؤ کرنے کے الزام کو قبول کیا ہے۔

روزنفیلڈ نے اعتراف کیا کہ بعض مرتبہ تفتیش کے دوران بچوں کے والدین موجود نہیں ہوتے لیکن تفتیش کے ہر عمل کی کو کولز سرکٹ ٹی وی کے ذریعے نگرانی کی جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ رات کے وقت گرفتاریاں اسی صورت میں کی جاتی ہیں جب خفیہ اطلاعات کے مطابق مشتبہہ بچے کے گھر پر موجود ہونے کا بہترین وقت رات کا ہی ہو۔