’افغانستان میں صورتحال گزشتہ برس سے بہتر‘

Image caption ’بہتر صورتحال کی وجہ سے جولائی سے امریکی فوج کا انخلاء شروع ہو جائے گا‘

افغان جنگ کے حوالے سے امریکی پالیسی کے جائزے میں طالبان کے خلاف جنگ میں پیشرفت پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے اس سلسلے میں پاکستان کے تعاون میں اضافے کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔

یہ جائزہ رپورٹ جمعرات کو جاری کی جائےگی تاہم منگل کو امریکی صدر کے ترجمان رابرٹ گبز نے اس کی کچھ تفصیلات پر روشنی ڈالی ہے۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار زبیر احمد کے مطابق منگل کو وائٹ ہاؤس میں منعقدہ ایک اجلاس میں امریکی انتظامیہ نے افغانستان کے لیے اپنی پالیسی کا جائزہ لیا اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ وہاں طالبان کے خلاف پیشرفت مثبت ہے۔

امریکی وار کیبنٹ کے دو گھنٹے تک چلنے والے اجلاس میں خطّے میں امریکی پالیسی کے ہر پہلو پر غور کیا گیا۔

اجلاس کے بعد امریکی صدر کے ترجمان رابرٹ گبز نے نامہ نگاروں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ جائزے کی تفصیلات جمعرات کو جاری کی جائیں گی اور ان میں یہ بات شامل ہوگی کہ افغانستان میں صورتحال پچھلے سال سے بہتر ہوئی ہے لیکن ابھی بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ان کے مطابق افغانستان میں بہتر صورت حال کی وجہ سے اگلے سال جولائی سے امریکی فوج کی واپسی کا منصوبہ شیڈول کے مطابق شروع ہو جائےگا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف امریکی جنگ میں کافی ہاتھ بٹا رہا ہے لیکن اسے اپنی کوششیں مزید تیز کرنی چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ ’ اس رپورٹ میں القاعدہ کے خلاف کچھ کامیابیوں اور پاکستانی حکومت کے ساتھ تعاون میں اضافے کا ذکر بھی ہوگا‘۔

Image caption افغانستان میں صورتحال پچھلے سال سے بہتر ہوئی ہے:گبز

انہوں نے زور دے کر کہا کہ جائزہ رپورٹ میں افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکی پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صدر اباما نے رپورٹ میں کچھ تبدیلی کا حکم دیا تھا جو کی جا چکی ہیں۔

امریکی وار کیبنٹ کے اجلاس میں افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا گیا۔ ہالبروک افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکی پالیسی کے معماروں میں سے ایک تھے۔

جُمعہ کو وہ اسی جائزے کے سلسلے میں امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن سے ملنے گئے تھے جہاں ان کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی تھی اور. پیر کو ان کا انتقال ہو گیا تھا۔ اس اجلاس سے دو ہفتے قبل ہالبروک نے کہا تھا کی افغان پالیسی کے جائزے میں امریکی پالیسی میں تبدیلی کا ذکر نہیں ہوگا کیونکہ اب تک پالیسی کامیاب رہی ہے۔

اسی بارے میں