سیلاب ایک سیاسی امتحان بھی ہے

سیلاب متاثرین(فائل فوٹو)

(بی بی سی کے ٹی وی پروگرام نیوز نائٹ میں موضوع تھا پاکستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں زندگی۔ پروگرام کا مختصر متن مندرجہ ذیل ہیں۔)

جس کا گھر پانی میں ڈوب جائے اور سب کچھ ختم ہو جائے وہ کس سے مدد مانگ سکتا ہے؟ جس کی اپنی حکومت کے ہاتھ بندھے ہوں وہ کیا کرے گا؟

جولائی کے مہینے میں پاکستان کی تاریخ کے بدترین اور تباہ کن سیلاب کے بعد سے ہزاروں لاکھوں لوگ بی بی سی اردو اور پشتو کے لائف لائن پروگرام کو فون کر چکے ہیں۔ ان میں حافظ محب علی بھی شامل تھے جنہوں نے بارہ اکتوبر کو فون کیا۔

محب علی نے کہا کہ ’ہمارا علاقہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ کچھ نہیں بچا۔ ہم بھوکے ہیں اور حکومت ہماری مدد کو نہیں آ رہی۔‘ سیلاب کے مہینوں بعد بھی ان کا گاؤں زیر آب ہے۔ علاقے میں محب علی سمیت ان گنت لوگ امداد کے منتظر ہیں۔

محب علی کے گاؤں کے راستے میں پانی میں ڈوبی ہوئی سڑکیں اور دیہات ملے۔ راستہ پوچھنے کے لیے رکے تو کسانوں اور مزدوروں نے گھیر لیا کہ ہم ان کے گاؤں کا بھی دورہ کریں۔ ایک کسان نے کہا کہ ہم اگر اس کے گاؤں جائیں گے تو معلوم ہوگا کہ وہاں کچھ بھی نہیں۔

ہم جیسے جیسے آگے بڑھے لوگوں کے غصے میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ ایک گروپ نے سڑک پر درخت کا تنا پھینک کر ہمارا راستہ روک لیا۔ ان میں سے بہت سوں نے کہا کہ انہیں حکومت کی طرف سے کوئی امداد نہیں ملی۔ انہوں نے حکومت کی طرف سے بیس ہزار روپے کے وعدے کو ناکافی قرار دیا۔

کئی گھنٹوں کی مسافت کے بعد ہم محب علی کے گاؤں پہنچے۔ وہ نابینا ہیں۔ ان سے بات کر کے ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ پیپلز پارٹی کے پرانے کارکن ہیں۔ ان کے مٹی کے کمرے میں بینظیر بھٹو کی تصویر آویزاں تھی۔ یہ کمرہ ان کے خاندان والوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بنایا ہے۔

محب علی اپنے علاقے کے رکن اسمبلی عمران لغاری سے رابطے کی مسلسل کوششیں کرتے رہے ہیں لیکن وہ اس میں ناکام رہے۔ انہوں نے تکلیف بھری آواز میں کہا کہ انہیں مایوسی ہے کہ ان کی جماعت اس مشکل گھڑی میں ان کی مدد نہیں کر رہی۔ ’میں ان کو ووٹ کیوں دوں جو میری مدد نہیں کر سکتے‘۔

ہم نے اراکین اسمبلی عمران لغاری اور طلعت حسین مہیسر سے رابطے کا فیصلہ کیا جو سیلاب سے متاثرہ اس علاقے میں کام کر رہے تھے جو پیپلز پارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

دونوں سیاستدان ایک ایسے گاؤں میں موجود تھے جہاں سے دس فٹ اونچا پانی کا ریلا گزرا تھا۔ چارپائی پر بیٹھ کر انہوں نے متاثرین کی شکایات سننا شروع کیں۔ عمران نے لوگوں کو یہ بھی بتایا کہ انہیں حکومت یا غیر سرکاری اداروں سے ایک یا دو بار مدد ملے گی پھر انہیں اپنے پیروں پر خود کھڑا ہونا پڑے گا۔وہاں موجود لوگوں کی طرف سے خیموں کے مطالبے کی بھرمار تھی۔

عمران کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے میں ستر ہزار گھر تباہ ہوئے جبکہ انہیں صرف چھ ہزار پچاس خیمے ملے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان دونوں سیاستدانوں کے گرد لوگوں کا ہجوم بڑھتا گیا جو بالآخر کنٹرول سے باہر ہو گیا۔

لوگوں نے امدادی سامان لے کر آنے والے ایک ٹرک پر حملہ کر دیا اور باقی سامان کے ساتھ وہاں موجود محافظوں کے ہاتھوں سے وہ ڈنڈے بھی لے گئے جو انہیں قابو میں رکھنے کے لیے استعال کیے جا رہے تھے۔

ہم نے حافظ محب کی شکایت عمران کو سنائی۔ انہوں نے آہ بھر کر کہا کہ اگر ان کا فون ہر وقت مصروف ملتا ہے تو اس میں ان کا کیا قصور ہے۔ انہوں نے احتجاج کیا کہ ہفتے میں سات روز چوبیس گھنٹے کام کر رہے ہیں۔ ’میں بھی انسان ہوں مشین تو نہیں۔‘

پاکستان میں آنے والی یہ بد ترین قدرتی آفت اس کا سب سے بڑا سیاسی امتحان بھی ہے۔ سیلاب کا پانی اترنے میں وقت لے رہا ہے اور اس سے مرتب ہونے والے اثرات بھی دیرپا ہوں گے۔

اسی بارے میں