روم: برلسکونی کی کامیابی کے بعد ہنگامے

Image caption جھڑپوں میں پچاس پولیس اہلکار اور چالیس مظاہرین زخمی ہوئے

اطالوی وزیراعظم سلویو برلسکونی کی جانب سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد روم میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں پچاس پولیس اہلکاروں سمیت نوے افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

اطالوی پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں ہونے والی ووٹنگ میں سلویو برلسکونی نے تین سو چودہ ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کی مخالفت میں تین سو گیارہ ووٹ پڑے۔

ووٹنگ کے موقع پر دارالحکومت روم سمیت اٹلی کے کئی بڑے شہروں میں ہزاروں افراد نے حکومت کے خلاف مظاہرے کیے اور جب یہ خبر سامنے آئی کہ چوہتر سالہ سلویو برلسکونی نے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا ہے تو روم میں ہونے والا مظاہرہ پرتشدد احتجاج کی شکل اختیار کر گیا۔

حالیہ برسوں میں اٹلی میں ہونے والے بدترین مظاہروں میں شامل افراد نے کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی اور نہ صرف پارلیمنٹ کی عمارت پر پتھراؤ کیا بلکہ اس پر رنگ اور انڈے بھی پھینکے۔

Image caption مظاہرین نے پارلیمنٹ کی عمارت پر پتھر،رنگ اور انڈے پھینکے

پولیس نے ان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کا استعمال کیا۔ حکام کے مطابق ان جھڑپوں میں پچاس پولیس اہلکار اور چالیس مظاہرین زخمی ہوئے ہیں۔ منگل کو روم شہر کا مرکزی علاقہ سارے دن باقی شہر سے کٹا رہا۔ پولیس نے اس سارے علاقے میں رکاوٹیں کھڑی کی ہوئی تھیں تاکہ مظاہرین کو پارلیمان تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔

برلسکونی کی جیت

سلویو برلسکونی کی یہ جیت حزبِ اختلاف کے دو ارکان کی مرہونِ منت تھی جنہوں نے ووٹنگ کے دوران ان کے حق میں ووٹ دیا۔

حزبِ اختلاف کے رکن پارلیمان کاتیا پولیدوری کی جانب سے برلسکونی کے حق میں ووٹ ڈالنے کے بعد ایوان میں کشیدگی پیدا ہوگئی اور ووٹنگ کچھ دیر کے لیے رکی رہی۔

Image caption برلسکونی تین ووٹوں کے فرق سے کامیاب ہوئے

سلویو برلسکونی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کے سکینڈلز اور ان پر لگنے والے کرپشن کے الزامات کے بعد انہیں وزارتِ عظمٰی رکھنے کا حق نہیں۔

برلسکونی اپنے سب سے قریبی سیاسی حلیف گیانفرانکو فینی کے علاوہ درجن بھر حمایتیوں سے بھی ہاتھ دھو چکے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ایوان میں انہیں واضح اکثریت حاصل نہیں۔

برلسکونی کی فتح کے بعد ایوان میں اپنے خطاب میں ان کے مخالف اور سابق انٹر کرپشن جج انتونیو دیپیترو نے کہا کہ ’جو مرضی نتیجہ تم نے حاصل کیا ہے لیکن ایک بات واضح ہے کہ تمہیں وہ سیاسی اکثریت حاصل نہیں جس کے بل بوتے پر حکومت کی جا سکے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آپ مانیں یا نہ مانیں آپ کا یہ سیاسی تجربہ ختم ہونے کو ہے‘۔

اسی بارے میں