’امریکی پالیسی سے القاعدہ کمزور‘

Image caption رپورٹ کے مطابق طالبان نے حالیہ برسوں میں جو پیش قدمی کی تھی اس کا سلسلہ ملک کے زیادہ تر حصوں میں رک گیا ہے

افغانستان کے بارے میں امریکی پالیسی کے جائزے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں موجود القاعدہ قیادت سن دو ہزار ایک کے بعد سے کمزور ترین حالت میں ہے۔

صدر براک اوباما کی ہدایت پر ہونے والے اس جائزے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں اتنی پیش رفت حاصل کر لی ہے کہ وہ جولائی دو ہزار گیارہ میں وہاں موجود افواج میں ’ذمہ دارانہ‘ کمی کر سکے۔

تاہم رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ افغانستان میں مزید فوج بھیج کر طالبان کے خلاف حاصل کی گئی کامیابی ابھی تک ’غیر پائیدار اور غیرمستحکم‘ ہے۔

نیٹو پلان کے مطابق سن دو ہزار چودہ تک سکیورٹی امور کی تمام ذمہ داری افغانوں کے سپرد کر دی جائیں گی۔

امریکہ کے بارے میں افغان پالیسی کا جائزہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملک میں ہونے والی عام شہریوں کی ہلاکتیں سن دو ہزار ایک میں امریکی قیادت میں ہونے والی فوج کشی کے بعد سے سب زیادہ ہیں۔ یہ سال غیر ملکی فوجیوں کی ہلاکت کے لحاظ سے بھی بدترین ثابت ہوا ہے اور ہلاک ہونے والے فوجیوں میں سب سے زیادہ تعداد امریکیوں کی ہے۔

افغانستان اور پاکستان کے بارے میں امریکہ کی جنگی حکمتِ عملی پر جمعرات کے روز صدر اوباما کی تقریر سے پہلے وائٹ ہاؤس نے دستاویز کی پانچ صفحات پر محیط سمری جاری کی ہے۔

سمری میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں موجود القاعدہ کی اعلیٰ قیادت پہلے کی نسبت کمزور ہے اور سن دو ہزار ایک میں افغانستان پر حملے کے بعد سے سب سے زیادہ دباؤ میں دکھائی دے رہی ہے۔

’افغانستان میں طالبان نے حالیہ برسوں میں جو پیش قدمی کی تھی اس کا سلسلہ ملک کے زیادہ تر حصوں میں رک گیا ہے اور کچھ اہم علاقوں میں تو طالبان نے پسپائی بھی اختیار کی ہے۔ تاہم طالبان کے خلاف یہ کامیابیوں غیر پائیدار اور غیر مستحکم ہیں۔‘

جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ حکمتِ عملی میں القاعدہ، افغانستان اور پاکستان تینوں شعبوں میں پیش رفت نظر آ رہی ہے لیکن اب چیلنج یہ ہے کہ ان کامیابیوں کو دیرپا اور پائیدار بنایا جائے۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہلمند اور قندھار میں مزاحمت کار آخری دم تک لڑنے کے لیے تیار ہیں اور یہ عمل غزنی اور قندوز جیسے علاقے تک پھیل رہا ہے۔

افغانستان میں نیٹو کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریس کا کہنا ہے کہ کئی مزاحمت کاروں نے ہتھیار ڈالنے کے لیے افغان حکومت اور غیر ملکی فوج سے رابطہ کیا ہے۔

تاہم طالبان نے حکومت سے براہِ راست بات چیت کو مسترد کیا ہے۔

اس وقت ڈیڑھ لاکھ سے زائد نیٹو فوجی مزاحمت کاروں کو شکست دینے کے لیے افغانستان میں موجود ہیں۔

اسی بارے میں