’اسلامی شدت پسندوں سے رابطے‘

Image caption سویڈن کے حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ اس خودکش بمبار کے کن شدت پسندوں سے رابطے تھے

سویڈن کے خفیہ اداروں کی طرف سے جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کچھ انتہا پسند مسلمانوں نے صومالیہ اور مشرقِ وسطیٰ میں اسلامی شدت پسندوں سے رابطے استوار کر لیے ہیں۔

سویڈن بنیادی طور پر اسلامی شدت پسندی کا گڑھ نہیں ہے لیکن حکام کے مطابق اس رپورٹ کے سامنے آنے سے اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ انتہاپسند گروپ یورپ بھر میں اپنے آپ کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خفیہ اداروں کا اندازہ ہے کہ ملک میں تقریباً دو سو افراد ایسے ہیں جو اسلامی شدت پسندی میں ملوث ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہی افراد پر تشدد کارروائیوں کےلیے دوسرے لوگوں کی بھرتی کرتے ہیں اور مالی معاونت بھی کرتے ہیں۔

خفیہ اداروں کا کہنا ہے کہ ان میں سے کچھ دہشت گرد حملے کرنے کی منصوبہ بندی کرنے میں سرگرم ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس کو ایک شخص کے بارے میں بلکل معلوم نہیں ہو سکا تھا جنہوں نے گزشتہ ہفتے دارالحکومت سٹاک ہوم میں بم دھماکہ کیا تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے دارالحکومت سٹاک ہوم میں ہونے والے دو دھماکوں میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوگئے تھے۔ پولیس کے مطابق یہ دھماکے شہر کے مرکز میں واقع ایک پرہجوم بازار کے نزدیک ہوئے تھے جہاں کرسمس کے سلسلے میں خریداری کرنے والے لوگ جمع تھے۔ ان دھماکوں کے سلسلے میں برطانوی پولیس نے بھی بیڈفورڈ شائر میں ایک مکان کی تلاشی لی تھی۔

بی بی سی کے نامہ نگار میتھیو پرائس کے مطابق سویڈن کے حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ اس خودکش بمبار کے کن شدت پسندوں سے رابطے تھے۔

ان دھماکوں نے سویڈن کو ہلا دیا ہے اور یہ ملک دوسروں کو امیگریشن دینے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ کچھ لوگ مانتے ہیں کہ سویڈن کی عوام اس بات کی حمایت کرے گی کہ سویڈن اپنی امیگریشن کی پالیسی کا دوبارہ جائزہ لے۔

سنیچر کے روز جب ایک مشتبہ بمبار نے دارالحکومت سٹاک ہوم میں اپنے آپ کو بم سے اڑا دیا تھا تو یہ رپورٹ اس سے پہلے ہی تیار کر لی گئی تھی۔

اسی بارے میں