تیل رساؤ: بی پی کے خلاف عدالتی چارہ جوئی

فائل فوٹو
Image caption اس واقعے میں گیارہ افراد ہلاک اور کئی ماہ تک لاکھوں بیرل تیل کا رساؤ ہوتا رہا تھا

امریکہ خلیج میکسیکو میں تیل کے رساؤ کے حوالے سے برٹش پیٹرولیم سمیت دیگر آٹھ کمپنیوں کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کر رہا ہے۔

ان کمپنیوں کے خلاف مبینہ طور پر فیڈرل سیفٹی ریگولیشنز یا وفاقی حفاظتی قواعد کی خلاف وزری کرنے کے تحت عدالتی مقدمہ کیا جا رہا ہے۔

مقدمے میں کہا جائے گا کہ کمپنیوں کو بغیر کسی حد کے تمام نقصان اور صفائی کا ذمہ دار بنایا جائے۔

مقدمے میں ان کمپنیوں پر امریکہ کے صاف پانی کے ایکٹ اور تیل کی آلودگی کے ایکٹ کے تحت الزام عائد ہو گا۔

امریکی اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر کا کہنا ہے کہ شکایت میں الزام ہے کہ ’ حفاظتی اور آپریشنل قواعد کی خلاف‘ کی وجہ سے بیس اپریل کا واقعہ پیش آیا۔

واضح رہے کہ خلیج میکسیکو میں سمندر کی تہہ میں تیل کی تلاش کے دوران بیس اپریل کو ایک دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے میں ایک کنویں سے تیل کا رساؤ شروع ہوگیا تھا۔

اس واقعے میں گیارہ افراد ہلاک اور کئی ماہ تک لاکھوں بیرل تیل کا رساؤ ہوتا رہا تھا۔

تیل کے اخراج کو امریکی ماحولیاتی تاریخ میں سب سے خوفناک واقعہ قرار دیا گیا ہے۔

اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ ’ ہمارا ارادہ ہے کہ یہ ثابت کیا جائے کہ مدعا علیہ بغیر کسی حد کے معاشی اور ماحولیاتی نقصانات کے ذمہ دار ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ تحقیقات جاری ہیں اور تیل کے رساؤ کے ذمہ داروں کا احتساب کرنے میں کسی قسم کا قدم اٹھانے سے گریز نہیں کیا جائےگا۔‘

برٹش پیٹرولیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ حکومت کی انکوائری کے ساتھ تعاون جاری رکھا جائے گا اور خلیج میکسیکو میں بہنے والے تیل کی صفائی کے وعدے کو پورا کیا جائے گا۔

اٹارنی جنرل نے قانونی چارہ جوئی شروع کرنے کے حوالے سے کوئی ٹائم فریم نہیں دیا ہے لیکن کہا ہے کہ اس مسئلے پر جتنی جلدی ممکن ہو سکا پیش رفت کی جائے گی۔

اس سے پہلے بدھ کو وائٹ ہاوس کے اعلان سے پہلے ریاست نیو اورلینز کی فیڈرل کورٹس میں تین سو سے زائد مقدمے دائر کیے گیے ہیں۔ مقدمہ کرنے والوں میں ماہی گیری اور سیاحت کی صعنت کے علاوہ ریسٹورنٹ کے مالکان اور خیلج میکسیکو کے ساتھ جائیدار کا کاروبار کرنے والے شامل ہیں۔

اسی بارے میں