’ہیضے کی تحقیقات کے لیے پینل قائم‘

فائل
Image caption اکتوبر میں ہیضے کی وباء سے دو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے

اقوام متحدہ نے ایک خود مختار پینل قائم کیا ہے جو یہ جاننے کی کوشش کرے گا کہ ہیٹی میں ہیضے کی وباء کیسے پھیلی تھی۔

اقوام متحدہ کی جانب سے یہ قدم ان شکایات کے بعد اٹھایا گیا ہے جن کے مطابق اقوام متحدہ کی امن فوج میں شامل جنوبی ایشیا کے اہلکاروں کی وجہ سے ہیضے کی وباء پھیلی تھی۔

اس سے پہلے اقوام متحدہ اس کی تردید کرتا رہا ہے کہ اس کی فوج کی وجہ سے وباء پھیلی تھی۔

اکتوبر میں ہیضے کی وباء سے ایک سال پہلے تباہ کن زلزلے کا سامنا کرنے والے ملک میں تقریباً دو ہزار سے زائد لوگ ہلاک اور ہزاروں متاثر ہوئے تھے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون کا کہنا ہے کہ سائنسی پینل قائم کرنے کی ضرورت تھی تاکہ’ وہ جوابات معلوم کیے جا سکیں جن کی ہیٹی کی عوام حق دار ہے۔‘

جمعہ کو ایک اخبار کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل بانکی مون نے کہا کہ ’ ہیٹی میں ہیضے کی وباء کے پھیلنے سے متعلق خطوں کے بارے میں بہت سارے مفروضے ہیں، اور تمام معلومات ایک ہی نتیجے پر نہیں پہنچتی ہیں۔‘

’ جن کا مطلب ہے کہ قانونی خدشات اور جائز سوالات بہترین جوابات کا مطالبہ کرتے ہیں جو سائنسدان مہیا کریں گے۔‘

ہیٹی کے بعض لوگوں کا الزام ہے کہ یہ وباء اقوام متحدہ کے امن دستے میں شامل نیپالی فوجیوں سے پھیلی تھی۔

ہیٹی میں ہیضے کا مرض بہت کم ہے لیکن نیپال میں عام ہے۔

نومبر میں امراض کے روک تھام کے امریکی مرکز سے افشاء ہونے والی رپورٹ کے مطابق ہیٹی میں پھیلنے والے ہیضے کے جراثیم جنوبی ایشیا میں پائے جانے والے اس بیماری کے جراثیم سے مماثلت رکھتے ہیں۔

رپورٹ دیکھنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ ہیضے کی وباء ایک دریا سے پھیلی تھی جسے نیپالی فوجیوں نے آلودہ کیا تھا۔

اسی بارے میں