عراق کا پارلیمانی منظر نامہ

مخلوط حکومت میں شامل سیاسی جماعتیں

نیشنل الائینس یعنی قومی اتحاد

یہ سب سے بڑا شعیہ پارلیمانی گروپ ہے۔

جو مارچ کے انتخابات کے بعد وزیر اعظم نوری المالکی کی سٹیٹ آف لاء کولیشن یعنی ریاستی قانونی اتحاد اور عراق کے نیشنل الائنس کے آپس میں ادغام سے وجود میں آیا۔ اس اتحاد نے اکتوبر میں نوری المالکی کو دوسری مدت کے لیے وزیر اعظم بنانے کا فیصلہ کیا مگر یہ فیصلہ متفقہ نہیں تھا۔

سٹیٹ آف لاء کولیشن

اس اتحاد کی پارلیمان میں 89 نشتیں ہیں، نوری الماکی اس کے سربراہ ہیں۔ یہ ایک قبائلی نوعیت کا اتحاد ہے اس میں نوری المالکی کی شعیہ اسلامی پارٹی کے علاوہ کئی سنی قبائلی لیڈر، شعیہ کرد، عیسائی، اور آزاد گروپ بھی شامل ہیں۔

مسٹر مالکی کا کہنا ہے کہ یہ ایک قوم پرست ہم خیال پارلیمانی گروپ ہے جو عراق میں قومی یک جہتی کے اصولوں پر حکومت کی تشکیل چاہتا ہے۔

تاہم اس میں شامل کئی سنی رہنما اقتدار میں شر اکت کے نوری المالکی کے وعدے کے بارے میں کچھ زیادہ پر اعتماد نہیں ہیں۔

عراقی نیشنل الائینس

اس اتحاد کی پالیمان میں ستر نشتیں ہیں۔

یہ ایک بڑا اور اہم شعیہ اتحاد ہے اس میں طاقتور مذہبی رہنما مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کے علاوہ عراقی اسلاملک سپریم کونسل ، بصرہ میں قائم فدیلہ پارٹی، کچھ سنی رہنما اور سابق وزیر اعظم ابراہیم جعفری شامل ہیں۔ سابق وزیر اعظم احمد چلابی بھی اس اتحاد کا حصہ ہیں، جنھوں نے جلا وطنی کے دوران 2003 میں امریکی حملے سے پہلے عراق میں سیاسی منظر نامہ بدلوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

جعفری 2005 سے 2006 کے دوران عبوری حکومت میں وزیر اعظم تھے۔ اُن پر الزام ہے کہ ان کے دور اقتدار میں ملیشیا گروپ ملک کی سکیورٹی سروسز میں شامل ہوگئے جو ملک میں فرقے وارا نہ خانہ جنگ کا سبب بنا۔

کردستان الائینس

یہ اتحاد کرد رہنما مسعود بر زانی کی ڈیموکریٹک پارٹی اور سبکدوش ہونے والے صدر جلال طلابا نی کی پیٹریاٹک یونین آف کر دستان پر مشتمل ہے۔

یہ دونوں گروپ سیکولر اور مغربی ملکوں کے قریب تصور کیے جاتے ہیں۔ کردوں نے 2003 کے بعد سے عراق کی سیاسی تشکیل نو میں کنگ میکر یعنی مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ امکان یہ ہی ہے گو کہ اس کے پاس پالیمان میں 43 نشتیں ہیں مگر یہ نئی حکومت میں بھی واضح سیاسی اثر و رسوخ کا حامل ہوگا۔

العراقیہ ( جنبش ملی عراق)

جنبش ملی عراق سابق وزیر اعظم ایاد علاوی کی العراقیہ گروپ نے جسے سنی فرقہ سے تعلق رکھنے والوں کی حمایت حاصل تھی نورالمالکی کے اتحاد کو دو نشستوں سے شکست دی تھی لیکن واضح اکثر یت حاصل نے کرنے کی وجہ وہ حکومت بنانے میں ناکام رہی۔

سابق وزیر اعظم ایاد علوی سیکو لر شعیہ ہیں جنھیں ایسے سنی حلقوں میں حمایت حاصل ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ایاد علاوی ایسی مضبوط شخصیت کے مالک ہیں جو ایران کی شعیہ حکومت کا توڑ کرسکتے ہیں۔

اس میں شامل زیادہ تر شعیہ اور سنی گروپ فرقہ واریت کے سخت مخالف ہیں۔

91 نشستوں کے ساتھ پالیمان میں سب سے بڑا گروپ ہے۔

قبائلی رہنما

عراق میں بڑی تعداد میں قبائل رہنما ہیں جو 2006 میں القاعدہ کے خلاف مقامی شیخین کی حمایت کی وجہ سے منظر عام پر آئے۔ تاہم قبائل رہنماؤں اپنے الگ گروپ بنانے کے بجائے اپنی اپنی ہم خیال بڑی سیاسی پارٹیوں میں شمولیت اختیار کی ہے۔