’مشرق طاقت اور خوشحالی کا نیا مرکز‘

Image caption چین میں جی ڈی پی میں دس فیصد کا اضافہ ایک عام سی بات ہے

ایک عالمی جائزے کے مطابق مشرقی اور اقتصادی طور پر مضبوط اقوام طاقت اور خوشحالی کا مرکز بنتی جا رہی ہیں۔

سنہ 2011 کے اقتصادی منظر کے حوالے سے کیے اس عالمی سروے سے پتہ چلا ہے کہ چین، برزایل اور بھارت وہ ملک ہیں جہاں کے عوام خوش فہم ہیں۔

گیلپ اور اس کے متعلقہ اداروں کی جانب سے کیے جانے والے اس سروے میں کہا گیا ہے کہ سب سے ناامید ملک برطانیہ ہے۔

اس سروے میں ترّپن ممالک کے چونسٹھ ہزار افراد کی رائے لی گئی اور ان سے آنے والے بارہ ماہ میں ان کی ذاتی خوشحالی اور اقتصادی حالت کے بارے میں سوالات کیے گئے۔

سروے کے مطابق تیس فیصد افراد کے خیال میں سنہ 2011 خوشحالی کا سال ثابت ہو گا جبکہ اٹھائیس فیصد افراد اس خیال سے متفق نہیں تھے۔ بیالیس فیصد لوگوں کا ماننا تھا کہ اس سال بھی حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

عالمی امور کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار ایڈم مائنوٹ کا کہنا ہے کہ برازیل، روس، چین اور بھارت سے ملنے والے نتائج ترقی یافتہ جی سیون ممالک سے سامنے آنے والے نتائج سے کہیں مختلف ہیں۔

اس سروے کے مطابق انیس ممالک کے لوگ آئندہ بارہ ماہ کے بارے میں عموماً پرامید تھے جبکہ چونتیس ممالک کے افراد پر قنوطیت کا راج تھا۔ نامہ نگار کے مطابق اس سروے میں چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ قنوطیت کا شکار افراد کا تعلق زیادہ تر ترقی یافتہ اور خوشحال ممالک سے تھا۔

گیلپ کا کہنا ہے کہ اس سروے کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ ’اگرچہ دولت کا ارتکاز یورپ اور شمالی امریکہ میں ہے لیکن طاقت اور خوشحالی کا محور بیسویں صدی میں مغرب سے مشرق کی جانب منتقل ہوگیا ہے‘۔

ان مشرقی ممالک میں شرحِ ترقی بہت زیادہ رہی ہے اور چین جیسے ملک میں جی ڈی پی میں دس فیصد کا اضافہ ایک عام سی بات ہے۔

اس کے برعکس ترقی یافتہ معیشتیں سنہ 2008 میں شروع ہونے والے اقتصادی بحران سے مکمل طور پر چھٹکارا پانے میں تاحال کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔

اسی بارے میں