جنوبی کوریا کی زبردست جنگی مشقیں

کوریا، جنگی مشقیں
Image caption جنوبی کوریا نے بڑے جنگی ساز و سامان استعمال کیے ہیں

جنوبی کوریا کی فوج نے شدید کشدیگی کے ماحول میں شمالی کوریا کی سرحد کے نزدیک بڑے پیمانے پر جنگی مشقیں کی ہیں جس میں سینکڑوں فوجیوں نے حصہ لیا ہے۔

فوجی طاقت کے اظہار کے لیے ان مشقوں میں ٹینکز، ہیلی کاپٹرز اور ایئر کرافٹ بھی استعمال کیےگئے ہیں۔

گزشتہ ماہ شمالی کوریا نے سرحد کے نزدیک یئون پیونگ نامی جزیرے پر گولہ باری کی تھی جس میں جنوبی کوریا کے چار افراد مارے گئے تھے۔ تب سے اس خطے میں شدید کشیدگی کا ماحول ہے۔

شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کی ان جنگی مشقوں کو ’اشتعال انگیز‘ قرار دیا ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ وہ ان کارروائیوں کا جواب نہیں دے گا۔

اس دوران جنوبی کوریا کے صدر لی میونگ نے ان سرحدی علاقوں کا دورہ کر کے دفاعی صورت حال کا جائزہ لیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر شمالی کوریا نے دوبارہ حملہ کیا تو پھر سختی سے اس کا جواب دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا ’میرا خیال تھا کہ صبر سے اس خطے میں امن آئے گا لیکن ( حقیقت) یہ نہیں تھی۔ ہم مضبوط اتحاد اور طاقتور جواب سے ( شمالی کوریا) کو اشتعال انگیز اقدامات سے روک سکتے ہیں۔''

اس علاقے میں اس سے پہلے بھی فوجی مشقیں ہوئی ہیں لیکن اتنے بڑے پیمانے پر پہلی بار ایسا ہورہا ہے۔ جنوبی کوریا کی فوج یہ بات تسلیم کرتی ہے کہ یہ فوجی مشقیں اپنی طاقت کے اظہار کے لیے ہیں۔

Image caption جنوبی کوریا کے صدر نے علاقے کا دورہ کیا ہے

مشقوں سے قبل ایک فوجی نے ایسو سی ایٹیڈ پریس سے بات چیت میں کہا ’دراصل اس کا مقصد طاقت دکھانا ہے۔‘

یہ مشقیں اپنے مقررہ وقت سے تقریباً پینتالیس منٹ تاخیر سے شروع ہوئیں اور چالیس منٹ تک جاری رہیں۔ اس میں آٹھ سو فوجیوں نے حصہ لیا اور مختلف طرح کے سو سے زائدانواح کے ہتھیار استعمال کیے گئے جن میں لاینک، اینٹی ٹنک میزائل اور جنگی طیارے شامل تھے۔

سیول میں بی بی سی کے نامہ نگار کیون کم کا کہنا ہے کہ یوں لگتا ہے کہ یہ مشقیں میڈیا کے لیے زیادہ تھیں اور ان کو دیکھنے کے مخصوصو لوگوص کو مدعو بھی کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ کشیدگی میں تھوڑی کمی کے بعد اب عام لوگ اپنی معمول کی زندگی پر واپس آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مشقوں سے قبل یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ شمالی کوریا ان کے جواب میں فوجی کارروائی کر سکتا ہے تاہم شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ان کی فوج کسی جوابی کارروائی کا منصوبہ نہیں بنا رہی۔

شمالی کوریائی فوج کا کہنا ہے کہ ’دنیا کو جان لینا چاہیے کہ امن کا حقیقی چیمپیئن کون ہے اور کون جنگ پر اکسا رہا ہے۔‘

شمالی کوریا نے کھلم کھلا انداز میں دھمکی دی تھی کہ وہ متنازعہ سمندری سرحدی علاقے کے قریب فوجی مشقوں کے خلاف بھرپور فوجی کارروائی کرے گا جو نومبر میں کیے جانے والے حملے سے زیادہ مہلک ہوگی۔

اسی بارے میں