گیارہ سالہ لڑکی کی اکتالیس سالہ شخص سے شادی ’غیر قانونی‘

Image caption اکتالیس سالہ مسلمان شخص نے اس سال فرروری میں گیارہ سالہ لڑکی سے چوتھا عقد کیا تھا۔

ملائشیا کی ایک عدالت نے ایک فیصلے میں گیارہ برس کی مسلمان لڑکی کی اکتالیس سالہ شخص سے شادی کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔

اسلامی عدالت کے جج نے کہا کہ بچی کے باپ کا اپنی بیٹی کی شادی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور یہ کہ اس شادی میں دھمکیوں اور جبر کے استعمال جیسے عناصر سامنے آئے ہیں۔

ملائشیا میں سولہ برس سے کم عمر کی مسلمان لڑکیاں اسلامی عدالت کی اجازت سے شادی کر سکتی ہیں۔

تاہم اس مقدمے کے باعث ملائشیا میں حقوقِ نسواں کےگروپوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شادی کی کم سے کم عمر بڑھا کر اٹھارہ برس کرے۔

اکتالیس سالہ مسلمان شخص نے اس سال فرروری میں گیارہ سالہ لڑکی سے چوتھا عقد کیا تھا۔

جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اکتالیس سالہ شخص اور گیارہ سالہ لڑکی کی یہ شادی غیر قانونی ہے۔ لڑکی کی (چھوٹی) عمر کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے کہ جوڑے نے اسلامی قانون کا اتباع نہیں کیا۔

سسٹرز اِن اسلام نامی ایک تنظیم نے کہا ہے کہ ملائشیا میں بچوں کی شادیاں ہو رہی ہیں کیونکہ کہا جاتا ہے کہ جب مسلمان لڑکی سنِ بلوغ کو پہنچ جائے تو اس کا بیاہ کیا جا سکتا ہے۔

اسی ماہ کے اوائل میں چودہ برس کی ایک لڑکی نے تئیس سال کے ایک ٹیچر سے کوالالمپور میں ایک عوامی تقریب میں شادی کی تھی۔