امریکی پائلٹ سے تفتیش

امریکی حکام اُس پائلٹ سے تفتیش کررہے ہیں جس کے بارے میں شبہ ہے کہ انھوں نے سان فرانسسکو ایر پورٹ پر سکیورٹی میں پائی جانے والی خامیوں کی وڈیو مبینہ طور یو ٹیوب پر شائع کی ہیں۔

پائلٹ کے وکیل ڈان ورنو کا کہنا ہے محمکہ ٹرانسپورٹ کے سکیورٹی شعبے کے حکام اس بات کی تفتیش کر رہے ہیں آیا یہ حساس معلومات اُن کے موکل نے جاری کی ہیں یا کسی اور نے۔

یو ٹیوب پر دکھائی جانے والی وڈیوز میں یہ دکھایا گیا ہے کہ عملے کے رکن اپنے سکیورٹی کارڈ مشین کو دکھاکر اندر داخل ہورہے ہیں تاہم ایر پورٹ کے انتہائی حساس علاقے میں داخل ہوتے وقت اُن کی کوئی جانچ پڑتال نہیں ہورہی۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ وہ اس سلسلےمیں کارروائی کریں گے۔

پالئٹ کے وکیل مسٹر ورنو کا کہنا ہے کہ پچاس سالہ پائلٹ بدستور ایر لائن کے ملازم ہیں تاہم انھیں اُس پرو گرام سے ہٹا لیا گیا ہے جس میں پرواز کے عملے کو جہاز اغوا ہونے سے بچانے کی تربیت دی جارہی تھی۔

پائلٹ سے، جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، اُ ن کا سرکاری ہتھیار واپس لے لیا گیا ہے۔

وکیل کا کہنا ہے کہ پائلٹ نے نومبر اور دسمبر میں یوٹیوب پر وڈیوز جاری کرنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ سان فرانسسکو کے ایر پورٹ پر زمینی عملے کی سکیورٹی اقدامات میں پائی جانے والی کمی کی نشاندہی کرسکیں۔

اس میں میں مسافروں کے سامان کی تلاشی لینے اور کھانے کا سامان فراہم کرنے والا عملہ بھی شامل ہے۔

وکیل کا مزید کہنا تھا کہ جو وڈیوز یو ٹیوب پر دکھائی گئیں ہیں اُن میں کوئی حساس معلومات شامل نہیں ہے۔ کوئی بھی مسافر رن وے پر جہاز کے ٹیکسی کے وقت ایسی وڈیو بنا سکتا ہے۔

محکہ ٹرانسپورٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایر پورٹ پر جو آلات نصب کیے گیے ہیں ادارے کو اُس پر مکمل اعتماد ہے اور وہ مسافروں کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ ایرپورٹ پر نظر آنے والے سکیورٹی آلات کے ساتھ ساتھ نظر نہ آنے والے سکیورٹی اقدامات بھی موجود ہیں۔

یہ وڈیوز یو ٹیوب سے اتار لی گئیں ہیں۔

اسی بارے میں