نائجیریا: مسلح گروہوں میں جھڑپیں

Image caption نامہ نگار کہتے ہیں کہ اگرچہ جھڑپوں کی وجہ فرقہ وارانہ قرار دی جاتی ہے لیکن غربت اور زمین و وسائل تک رسائی مسائل کی جڑ ہے

وسطی نائجیریا کے شہر جوس میں کرسمس پر ہونے والے دو دھماکوں کے بعد جن میں بتیس افراد ہلاک ہوگئے تھے، مسلح گروہوں میں تشدد بھڑک اٹھا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون نے ’تشدد کے قابلِ نفرت‘ حرکت کی مذمت کی ہے اور دھماکوں میں مرنے والے اڑتیس افراد کے اہلِ خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ارتکابِ جرم کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے تک لایا جائے گا۔

عینی شاہدین کہتے ہیں کہ جب متاثر علاقے میں عمارتوں کو آگ لگا دی گئی اور لوگ جان بچانے کے لیے بھاگ رہے تھے کہ پولیس اور فوج موقع پر پہنچی۔

اس خطے میں مسلمان اور عیسائی نسلی گروپوں کے درمیان ماضی ہونے والے تشدد میں سینکڑوں لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔

تشدد کے تازہ واقعات کرسمس کے موقع پر جوس شہر کے قریب بم دھماکوں کے بعد شروع ہوئے ہیں۔

نائجیریا کے نائب صدر نمادی سیمبو کے بارے میں اطلاع ملی ہے کہ وہ علاقے میں پہنچ رہے ہیں۔

فوری طور پر تشدد کی تازہ لہر کی تفصیلات معلوم نہیں ہو سکیں لیکن ایک عینی شاہد نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ علاقے میں درجنوں عمارتوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا اور اس نے دیکھا کہ خون میں غلطاں لوگوں کو ہسپتال لے جایا جا رہا تھا۔

پولیس کمشنر عبدالرحمان اکانو نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ دو گروہوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں ہیں جن میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے لیکن اب صورتِ حال قابو میں ہے۔

جس علاقے میں کشیدگی ہے وہ نائجیریا کی نازک درمیان پٹی میں واقع ہے جہاں شمال میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی جبکہ جنوب میں زیادہ تر مسیحی ہیں۔

.کشیدگی کا ایک سبب مقامی گروپوں اور شمال سے آنے والے آبادکاروں کے درمیان کئی عشروں پر محیط ناراضی ہے۔

نامہ نگار کہتے ہیں کہ اگرچہ جھڑپوں کی وجہ فرقہ وارانہ قرار دی جاتی ہے لیکن غربت اور زمین و وسائل تک رسائی مسائل کی جڑ ہے۔

اسی بارے میں