برطانیہ: نوافراد پر دہشتگردی کا مقدمہ

برطانوی پولیس
Image caption گرفتار ہونے والے تین افراد کو رہا کردیا گیا تھا

برطانیہ میں پولیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے جن بارہ افراد کو دہشتگردی میں ملوث ہونے کے شبہ میں گرفتار کر گیا تھا ان میں سے نو کے خلاف برطانیہ میں دہشتگردی کی منصوبہ بندی کے الزام کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

ان افراد کی عمریں انیس سال سے اٹھائیس سال کے درمیان ہیں ان میں سے تین کا تعلق ویلز کے شہر کارڈف، دو کا مشرقی لندن اور چار کا سٹوک آن ٹرینٹ سے ہے۔

ویسٹ مڈلینڈز کی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ افراد ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ بیس دسمبر کو ملک کے مختلف شہروں سے بارہ افراد کو برطانیہ میں دہشتگردی کے کارروائی کی سازش کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

انسدادِ دہشتگردی یونٹ کے سربراہ اسٹنٹ کمشنر پولیس جان یٹس نے بتایا تھا کہ یہ گرفتاریاں ایک بڑے پیمانے پر ہونے والے آپریشن کے نتیجے میں عمل میں آئیں جس میں کئی شہروں کی پولیس نے حصہ لیا۔

ان افراد کو بیس دسمبر کی صبح ان کے گھروں اور ان کے قریب واقع مقامات سے گرفتار کیا گیا تھا۔

اسسٹنٹ کمشنر پولیس جان یٹس کے مطابق یہ گرفتاریاں عوام کے جان ومال کے تحفظ کے لیے ضروری تھیں۔

بارہ میں سے تین افراد کو بغیر کسی الزام کے رہا کر دیا گیا تھا۔

انسداد دہشت گردی یونٹ کے سربراہ سیو ہیمنگ کا کہنا ہے ’میں نے پولیس کا ہدایت دی ہے کہ نو افراد پر دھماکے کرنے کا منصوبہ بنانے اور شدت پسندی کی کاروائی کرنے کی نیت رکھنے اور ایسے کارروائیوں کو انجام دینے میں مدد کرنا مقدمہ چلانا چاہیے۔‘

کارڈف سے گرفتار ہونے والے افراد میں 28 سالہ گروکناتھ دیسائی، 26 سالہ عمر شریف، 24 سالہ عبدالملک شامل ہیں

لندن سے گرفتار ہونے والوں میں 20 سالہ محمد مقصودالرحمن، 28 سالہ محمد لطفر رحمن شامل ہیں۔

سٹوک ان ٹرینٹ سے گرفتار ہونے والوں میں 25 سالہ نظام حسین، 19 سالہ عثمان خان، 26 سالہ محیب الرحمن، اور 26 سالہ محمد شاہ جہاں شامل ہیں۔

جن افراد کو رہا کردیا گیا ہے ان میں سے دو کا تعلق کارڈف اور ایک کا لندن سے تھا۔

اسی بارے میں