نائجیریا: بم دھماکوں میں اسی ہلاک

وسطی نائجیریا میں کے شہر جوس کے قریب کرسمس کے موقع پر کئی بم دھماکوں میں اور فرقے وارانے جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم از کم اسی ہوگئی ہے۔ جبک دو سو کے قریب زخمی ہوگئے۔

نائجیریا کی ہنگاموں سے نمٹنے والے حکام کہتے ہیں کہ ہلاک ہونے والوں کی یہ تعداد ہسپتال کے ذرائع کے مطابق بتائی جارہی ہے۔

تشدد کا یہ سلسلہ کرسمس سے ایک دن قبل شب کے وقت شروع ہوا، دھما کوں کے بعد مسلم اور عیسائی نوجوانوں میں جھڑپیں شروع ہوگئیں۔

یہ دھماکے اور جھڑپیں اُس علاقے میں ہوئیں جہاں حالیہ برس کے دوران فرقے وارانہ تصادم میں لگ بھگ ایک ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

ایک علیحدہ واقعے میں ملک کے شمال مشرقی شہر مڈوگوری میں گرجا گھروں میں مشتبہ اسلامی شدت پسندوں کے حملوں کے نتیجے میں چھ افراد مارے گئے۔

نائجیریا کی وسطی ریاست کے ایک ترجمان گریگوری ینلونگ کا کہنا ہے کہ اس علاقے کی عیسائی کمیونٹی بہت عرصے سے عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

مسٹر ینلونگ نے بلوم برگ خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ گزشتہ دو ہفتے سے انھیں کرسمس کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی دھمکیاں مل رہی تھیں۔

زخمی ہونے والوں میں اکثر کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔

جوس شمال میں مسلمانوں والے علاقے اور جنوب میں عیسائی علاقے کے درمیان واقع ہے۔

گو کہ مسلح تصادم مسلمان اورعیسائی گروپوں کے درمیان ہورہا ہے تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ اس مذہبی تنازعے کے پیچے معاشی اور سیاسی اسباب کار فرما ہیں۔

مسلمانوں کا تعلق عموماًً ہاؤسا بولنے والی کمیونٹی سے ہے۔ یہ لوگ زیادہ خانہ بدوشی کی زندگی بسر کرتے ہیں اور جانور پالنے سمیت دوسری چھوٹی موٹی تجارت کرتے ہیں۔

جبکہ اس علاقے میں رہنے والے کئی بڑے بڑے عیسائی گروپ زیادہ تر کاشتکار ہیں۔

عیسائی کاشتکار ہاؤسا بولنے والے مسلمانوں کی وجہ سے عدم تحفظ کا شکار رہتے ہیں کیونکہ مسلمان خانہ بدوش اکثر سبزے کی تلاش میں ان کے علاقوں میں آجاتے ہیں۔

رائٹرز خبر رساں ایجنسی کے مطابق مڈوگوری میں اسلامی گروپ کے مشتبہ ارکان نے جمعہ کے روز کم از کم دو گرجا گھروں پر حملہ کیا تھا۔ایک واقعے میں ایک پیڑول بم سے پانچ افراد ہلاک ہوئے۔ جبکہ ایک اور نزدیکی چرچ میں اسی طرح کے حملے میں ایک سکیورٹی گارڈ ہلاک ہوگیا۔

اسی بارے میں