پانچ برس بعد شام کے لیے امریکی سفیر

Image caption امریکی صدر نے شام سمیت چار ممالک کے لیے سفراء کا تقرر کیا ہے

امریکی صدر براک اوبامہ نے پانچ سال کے تعطل کے بعد شام سے سفارتی تعلقات بحال کرنے کے لیے رابرٹ فورڈ کو وہاں امریکی سفیر مقرر کیا ہے۔

رابرٹ فورڈ، عرب امور اور مشرقِ وسطٰی کی سیاسی صورتحال پر گہری نگاہ رکھتے ہیں اور وہ فروری سے اس عہدے پر کام شروع کریں گے۔

امریکہ نے شام سے اپنے سفارتی تعلقات سنہ دو ہزار پانچ میں منقطع کیے تھے اور اُس کی وجہ لبنانی وزیرِاعظم رفیق حریری کے قتل میں شام کو ملوث کیے جانا تھا۔

امریکہ میں حزبِ اختلاف، ری پبلکن پارٹی، شام سے سفارتی تعلقات بحال کرنے کی مخالف ہے تاہم حکمراں ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ تعلقات کی بحالی، خطے میں شدت پسندوں سے نمٹنے اور شام کو مشرقِ وسطٰی امن مذاکرات میں عملی طور سے شامل کرنے کے لیے ضروری ہے۔

شام کے لیے سفیر کی تقرری ان چھ تقرریوں میں سے ہے جو امریکی صدر نے سینیٹ کو بائی پاس کر کے کی ہیں۔

ان تقرریوں میں شام کے علاوہ آزدبائیجان، جمہوریہ چیک اور ترکی کے لیے سفراء کے علاوہ ڈپٹی اٹارنی جنرل کا تقرر بھی شامل ہے۔

امریکی قانون کے مطابق ایسی تقرریوں کو ’ریسیس اپائٹمنٹس‘ کہا جاتا ہے اور یہ اس وقت ہوتی ہیں جب سینیٹ کا اجلاس نہیں ہو رہا ہوتا۔

امریکی صدر نے جن افراد کا تقرر کیا ہے ان میں سے کئی کے نام امریکی قانون سازوں نے روکے ہوئے تھے۔ ایسی ہی ایک تقرری ڈپٹی اٹارنی جنرل کے عہدے پر جیمز کول کی ہے۔ ریپبلیکنز کا کہنا ہے کہ ان کے روابط امریکن انٹرنیشنل گروپ سے ہیں۔

اسی بارے میں