جنوبی کوریا سے بہتر تعلقات کی خواہش

شمالی کوریا
Image caption شمالی کوریا کے تئیں جنوبی کوریا کے رویے میں بھی نرمی آئی ہے

شمالی کوریا نے نئے سال کے موقع پر ایک پیغام میں جنوبی کوریا کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہش ظاہر کی ہے۔

شمالی کوریا کے سرکاری ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے اداریے کے مطابق اس خواہش کے ساتھ ساتھ شمالی کوریا نے اپنی عسکری صلاحیتوں میں اضافے کا عزم بھی دہرایا ہے۔

شمالی کوریا کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب دونوں ممالک کے باہمی تعلقات شدید تناؤ کا شکار ہیں اور حال ہی میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے علاقے پر گولہ باری بھی کی ہے۔

گولہ باری کے اس واقعے کے بعد جنوبی کوریا نے اس علاقے میں بڑی جنگی مشقیں بھی کی ہیں۔

اداریے میں شمالی کوریا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یہ قوم کا ’مستقل نقطۂ نظر‘ ہے کہ ’جزیرہ نما کوریا میں پائیدار امن قائم ہو اور اسے مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے جوہری ہتھیاوں سے پاک خطہ بنایا جائے‘۔

تاہم اداریے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فوج ’اصل جنگ کے ماحول میں بہترین جنگی تربیت حاصل کرے کیونکہ یہ علاقے کی تناؤ سے بھری فضا میں بہت ضروری ہے‘۔ تکنیکی طور پر دونوں کوریائی ممالک حالتِ جنگ میں ہیں کیونکہ انیس سو پچاس سے انیس سو ترپّن تک جاری رہنے والی کوریائی جنگ کے بعد کوئی امن معاہدہ نہیں ہوا تھا۔

خیال رہے کہ حال ہی میں جنوبی کوریا نے بھی شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر چھ فریقی بات چیت کے نئے دور کے آغاز کا مطالبہ کیا تھا۔جنوبی کوریا کے صدر لی میونگ باک کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے خاتمے کے لیے سفارتی طریقۂ کار کے علاوہ ان کے پاس کوئی اور متبادل نہیں ہے۔

شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر ہونے والی بات چیت میں شمالی و جنوبی کوریا، چین، جاپان، روس اور امریکہ شامل رہے ہیں اور اس میں شمالی کوریا کو جوہری پروگرام ترک کرنے کے عوض مراعات کی پیشکش کی گئی تھی۔

اسی بارے میں