آسٹریلیا: بدترین سیلاب سے پہلی ہلاکت

کوئنز لینڈ سیلاب فائل فوٹو
Image caption 20 سے زائد قصبے یا تو زیرِ آب آ چکے ہیں یا پھر دوسرے علاقوں سے کٹ گئے ہیں

آسٹریلیا کی شمال مشرقی ریاست کوئنز لینڈ میں آنے والے سیلاب میں پہلی ہلاکت ہوئی ہے جہاں اپنی کار سمیت بہہ جانے والی ایک عورت ہلاک ہو گئی۔

اکتالیس سالہ یہ عورت اپنی کار میں ایک پل سے دریا پار کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ کار سیلابی پانی میں بہہ گئی۔

پولیس نے اس پل پر موجود آٹھ لوگوں کو تو بچا لیا لیکن اس عورت کو نہیں بچا پائی اور بعد میں اس کی لاش برآمد ہوئی۔ سیلاب میں مزید دو افراد لاپتہ بتائے جاتے ہیں پولیس ان کی تلاش کر رہی ہے۔

آسٹریلیا میں سیلاب نے زبردست تباہی پھیلائی ہے۔ 20 سے زائد قصبے پہلے ہی زیر آب آ چکے ہیں یا دوسرے علاقوں سے کٹ گئے ہیں اور اب تک دو لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ اس سیلاب کو آسٹریلیا کی تاریخ کا بدترین سیلاب کہا جا رہا ہے۔

کچھ علاقوں میں پانی کم ہونا شروع ہو گیا ہے لیکن کوئنز لینڈ کے شہر راک ہیمپٹن نام کے شہر میں ابھی پانی کی سطح مزید بلند ہو رہی ہے جہاں کی آبادی 77 ہزار ہے۔

سیلابی پانی نے راک ہمپٹن میں ریلوے کی پٹریوں کو نقصان پہنچایا ہے جبکہ شہر کا ائیر پورٹ پہلے ہی بند کیا چکا ہے اور وہاں پر دریاؤں میں پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے۔

راک ہمپٹن کے میئر براڈ کارٹر کا کہنا ہے کہ شہر کی چالیس فیصد سے زیادہ آبادی اس آفت کے باعث متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا ہم اس آفت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔کچھ علاقوں میں لوگوں تک امداد سپلائی پہنچانے کے لیے ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

راڈ کارٹر کے مطابق ہزاروں افراد ہے اپنی جانیں بچانے کے لیے اپنے گھروں کو چھوڑ کر محفوظ مقام پر منتقل ہو چکے ہیں۔ایمرلڈ نامی قصبے کی اسی فیصد آبادی سیلاب کے باعث شدید متاثر ہوئی ہے۔

کوئنز لینڈ کے محکمۂ سیلاب کے ایک سینئر اہلکار اینڈریو فریسر نے حالیہ سیلاب کو بد ترین قراد دیا ہے۔ اُن کے مطابق کان کنی کی صنعت بھی سیلاب سے شدید متاثر ہوئی ہے اور آنے والے برسوں میں اِس سے ریاست کی آمدنی متاثر ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ اس بات کا خدشہ ہے کہ سیلاب سے ہونے والے نقصان کی تلافی پر کئی ارب آسٹریلین ڈالرز خرچ ہوں گے۔

.

اسی بارے میں