آخری وقت اشاعت:  اتوار 2 جنوری 2011 ,‭ 07:20 GMT 12:20 PST

دہشتگردی کے خلاف متحد رہیں:مبارک

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

مصر کے صدر حسنی مبارک نے ملک کے عیسائیوں اور مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اسکندریہ میں چرچ کے باہر دھماکے کے بعد دہشتگردی کے خلاف متحد ہو جائیں۔

ساحلی شہر اسکندریہ میں عیسائیوں کی سال نو کی پہلی عبادت کے بعد چرچ کے باہر مشتبہ خود کش دھماکے میں کم از کم اکیس افراد ہلاک اور 70 زخمی ہو گئے تھے اور اس دھماکے کے بعد سینکڑوں عیسائیوں کا پولیس اور مسلمانوں کے ساتھ تصادم ہوا۔

دھماکے کے چند گھنٹے بعد ہی ٹیلی وثرن پر اپنے خطاب میں حسنی مبارک نے کہا کہ اس کارروائی میں کسی’ غیر ملکی طاقت کا ہاتھ‘ نظر آتا ہے جس کا مقصد مصر کو غیر مستحکم کرنا ہے۔

ادھر امریکی صدر براک اوباما نے اس دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قصورواروں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس حملے کا نشانہ عیسائیوں کو بنایا گیا تھا۔

گرجا گھروں پر حملوں کی دھمکیاں مل رہی تھیں: میئر الیگزینڈریا

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم اس واقعہ کے بارے میں اطلاعات جمع کر رہے ہیں اور مصر کی حکومت کو اس سلسلے میں کسی طرح کی ضرورت پیش آئی تو ہم مدد کرنے کے لیے تیار ہیں‘۔

ابتداء میں افسران کا خیال تھا کہ یہ ایک کار بم دھماکہ تھا لیکن بعد میں وزارتِ داخلہ نے اس بات کو خارج از امکان قرارار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک خود کش بم دھماکہ تھا ۔

دھماکے میں نزدیک ہی ایک مسجد کو بھی نقصان پہنچا اور زخمیوں میں آٹھ مسلمان بھی شامل ہیں۔

ہم اس واقعہ کے بارے میں اطلاعات جمع کر رہے ہیں اور مصر کی حکومت کو اس سلسلے میں کسی طرح کی ضرورت پیش آئی تو ہم مدد کرنے کے لیے تیار ہیں‘۔

براک اوباما

دھماکہ رات کے ساڑھے بارہ بجے اس وقت ہوا جب القدیسین چرچ میں کاپٹک عیسائی سال نو کی پہلی عبادت کے بعد چرچ سے باہر آ رہے تھے۔اس عبادت میں ایک ہزار لوگ شریک ہوئے تھے۔ دھماکے کا شکار ہونے والے 17 سالہ نوجوان مارکو بوتروس نے ایسو سی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ مجھے صرف اتنا یاد ہے کہ یہ ایک زودار دھماکہ تھا اور مجھے ہر طرف انسانی اعضا نظر آرہے تھے‘۔

ایک اور عینی شاہد کا کہنا تھا کہ اس نے دھماکے سے پہلے چرچ کے باہر کھڑی کار سے دو لوگوں کو باہر نکلتے دیکھا۔

اسکندریہ مصر کا دوسرا بڑا شہر ہے اور چالیس لاکھ کی آبادی کے اس شہر میں ماضی میں بھی فرقہ وارانہ کشیدگی کے واقعات ہوتے رہے ہیں۔ مصر میں کوپٹک عیسائی ملکی آبادی کا دس فیصد ہیں اور حالیہ عرصے میں عیسائیوں اور مسلمانوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھی ہے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔