اسرائیل کے سابق صدر مجرم قرار

سات برس اسرائیل کی صدارت کے منصب پر فائز رہنے والے موشے کتساو کو زنا باالجبر کے الزام میں مجرم قرار دیاگیا ہے۔

موشے کاٹسیو کو سزا اگلے ماہ سنائی جائے گی۔ اسرائیل میں زنا بالجبرکے مجرم کو چار سال سے سولہ سال تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

اسرائیل کے سابق صدر 2007 میں الزامات سامنے کے بعد اپنے عہدے سے سبکدوش ہو گئے تھے اور ان کی جگہ موجودہ صدر شمعون پیرز نے صدارت کا عہدہ سنھبالا تھا۔

سابق صدر پر الزام ہے کہ 1998 میں جب وہ وزیر سیاحت کے عہدے پر فائز تھا تو انہوں نے ایک خاتون کے ساتھ دو بار جنسی زیادتی کی تھی۔

خاتون کا نام صیغہ راز میں رکھا گیا ہے۔

صدر پر الزام ہے کہ دورانِ صدارت بھی انہوں نے دو خواتین کو جنسی طور پر حراساں کیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ شکایات کندہ کی گواہی کو صحیح مانا گیا اور سابق صدر کی گواہی جھوٹ سے بھری پڑی ہے۔

اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ سابق صدر پر الزامات کا ثابت ہونا ریاستِ اسرائیل اور اس کے لوگوں کے صدمے کا باعث ہے لیکن یہ فیصلہ اسرائیل کی عدلیہ کی مضبوطی کی ایک بھی نشانی ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل میں قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ عدالتی فیصلہ میں کسی عورت کے اپنے جسم پر خصوصی حق کو تسلیم کیا گیا ہے۔

موشے کستاو کو اپنے خاندان کی حمایت حاصل ہے لیکن آج عدالتی فیصلے کے وقت ان کی اہلیہ ان کے ساتھ موجود نہ تھیں۔ سابق صدر کے بیٹے نے کہا کہ ان کا پورا خاندان اپنے والد کی حمایت میں کھڑا ہے اور اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

موشے کستاو ایک ایرانی نژاد یہودی ہیں جو پانچ سال کی عمر میں ایران سے ہجرت کر کے اسرائیل پہنچے تھے۔ انہوں لیکود سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کی اور صدارت کا عہدہ سنھبالنے سے پہلے کئی وزارتوں کے قلمدان سنبھال چکے تھے۔