سری لنکا:نوآبادیاتی نام بدلنے کا فیصلہ

سری لنکا
Image caption سیلون چائے کا نام شاید ہی تبدیل کیا جائے

حکومتِ سری لنکا نے سنہ 2011 میں اپنے ان تمام سرکاری اداروں کے نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو برطانوی نو آبادیاتی دور میں رکھے گئے تھے۔

سری لنکا کا پرانا نام سیلون برطانوی نو آبادیاتی دور سے تھا اور انتالیس سال قبل ملک کا نام تبدیل کر کے سری لنکا رکھا گیا تھا۔

1972 میں برطانوی دور کے نام سیلون کے خاتمے کے باوجود اب بھی سیلون نام کئی اداروں سے وابستہ رہا جیسے بینک آف سیلون اور سیلون فشریز کارپوریشنز۔

سری لنکن صدر کا کہنا ہے کہ سیلون نام کا استعمال بالکل ختم کیا جانا چاہیے۔

ملک میں نئے سال کے موقع پر ہونے والے اس نئے عہد پر ملا جلا ردِ عمل دیکھنے میں آیا ہے۔ وزارتِ توانائی نے اس ہفتے ایک میمورنڈم جاری کر کے سیلون الیکٹرسٹی بورڈ کا نام تبدیل کرنے کی درخواست دی ہے۔

اب ان ناموں اور سائن بورڈو کو تبدیل کرنے کی ذمہ داری ایک وزارت کو سونپی گئی ہے تاہم خیال ہے کہ سیلون چائے کا نام شاید ہی تبدیل کیا جائے۔اس صنعت سے وابستہ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ نام اب اس صنعت کا حصہ بن چکا ہے ۔

حالانکہ اداروں کے نام تبدیل کرنے کے اس سرکاری فرمان سے کئی لوگ افسردہ بھی ہیں۔ ایک نوجوان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سیلون لفظ کا ایک تاریخی مطلب اور اہمیت ہے اور اس سے کئی اداروں کی تاریخی اہمیت وابستہ ہے۔

ایک بلاگر نے لکھا ہے کہ ملک کا نیا نام دہشت گردی، جنگ اور پربھاکرن سے جڑا ہوا ہے۔ بلاگر نے سنگا پور کے سابق وزیرِ اعظم کے اس بیان کا حوالہ بھی دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ 1972 میں نام تبدیل کرنے کے بعد بھی ملک کی تقدیر نہیں بدلی۔

اسی بارے میں