’ کیمپ بند کرنے کا مطالبہ بھی کریں گے‘

یوسف رضا گیلانی
Image caption یوسف رضا گیلانی نے اپنے افغانستان کے دورے کے دورنے پروفیسر برہان الدین کو پاکستان آنے کی دعوت دی تھی

طالبان کے ساتھ بات چیت میں معاونت کے لیے باضابطہ درخواست کرنے کے لیے پاکستان آنے والے وفد کے ارکان کا کہنا ہے کہ وہ افغان عسکریت پسندوں کے کیمپوں کو بند کرنے کی درخواست بھی کریں گے۔

افغان امن کونسل کا یہ وفد منگل سے پاکستان کا چار روزہ دورہ شروع کر رہا ہے اور اس کی قیادت سابق افغان صدر اور امن کونسل کے سربراہ پروفیسر برہان الدین ربانی کر رہے ہیں۔

بی بی سی پشتو کے نامہ نگار محمد طاہر کے مطابق وفد میں شامل کئی اراکین نے کابل میں کہا ہے کہ وہ پاکستان سے اس کے سرحدی علاقوں میں افغان عسکریت پسندوں کے کیمپوں کو بند کرنے کی درخواست بھی کریں گے۔

ان کے مطابق امن کونسل کے ترجمان قیام الدین کشاف کا کہنا ہے کہ جنگ کی آگ افغانستان کے بعد پاکستان تک پہنچی ہے اور ہم پاکستان سے دونوں ممالک میں امن کے قیام کے لیے مدد کی درخواست کریں گے۔

ایک اور رکن عبدالحکیم مجاہد کا کہنا ہے کہ افغان وفد پاکستان میں بھی امن کے عمل کو آگے بڑھانے کےلئے ایک کونسل بنانے کی تجویز پیش کرے گا۔

افغان حکام نے وفد کے دورۂ اسلام آباد سے بہت امیدیں وابستہ کی ہیں لیکن اب یہ دیکھنا ہے کہ پاکستان میں سیاسی بحران کی وجہ سے افغان وفد کے ساتھ بات چیت کے کیا نتائج نکلتے ہیں۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے ستمبر میں اس ستر رکنی امن کونسل کااعلان کیا تھا او اس کونسل میں سابق جنگجو رہنماء، طالبان حکومت میں کئی اہم عہدوں پر کام کرنے والے اشخاص اور خواتین بھی شامل ہیں۔

پاکستان نے کئی مرتبہ افغانستان میں امن کوششوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے تاہم اسلام آباد کاموقف ہے کہ یہ کوششیں افغانوں کی جانب سے ہونی چاہیئیں۔ پاکستان نے کئی مرتبہ یہ شکوہ بھی کیا ہے کہ افغان حکومت نے وعدوں کے باوجود اپنے امن منصوبے میں اسے شریک نہیں کیا ہے۔

پاکستان نے اس سال کے اوائل میں کہا تھا کہ افغانستان میں امن کوششوں میں مدد دینے کے لیے انہوں نے افغان طالبان سے رابطے کیے ہیں تاہم افغان حکومت کی جانب سے پاکستان سے باضابطہ طور پر اپنا کردار ادا کرنے کے لیے نہیں کہا گیا تھا۔

افغان طالبان نے امن کونسل کی جانب سے بات چیت کے لئے اب تک ہونے والی تمام اپیلیں مسترد کر دی ہیں اور مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستان طالبان کو بات چیت کے لیے راضی کرنے میں کسی حد تک کردار ادا کرسکتا ہے۔

اسی بارے میں