مقتدی الصدر ایران سے عراق واپس

Image caption اگرچہ مقتدیٰ الصدر عراق پہنچ گئے ہیں لیکن یہ واضح نہیں کہ وہ کب تک یہاں رہیں گے

عراق میں حکام نے بتایا ہے کہ امریکہ مخالف مذہبی رہنما مقتدیٰ الصدر کئی برسوں کی خود ساختہ جلا وطنی ختم کر کے عراق واپس آ گئے ہیں۔

مقتدیٰ الصدر چار برس تک ایران میں رہے اور بدھ کو اپنے آبائی شہر نجف واپس پہنچے جو ان کا گڑھ بھی ہے۔

ریڈیکل مذہبی رہنما مقتدیٰ الصدر کی مہدی آرمی نے جو کبھی وہ ملیشیا تھی جس سے سب خوف کھاتے تھے، سنہ دو ہزار تین میں عراق پر امریکی یلغار کے بعد ان سے جنگ کی تھی۔

ان کی سیاسی جماعت ایک نئے معاہدے کے تحت حال ہی بننے والی عراقی حکومت کا حصہ ہوگی۔ اس کے پاس پارلیمان کی انتالیس نشستیں ہوں گی اور اسے سات وزارتیں دی جائیں گی۔

اگرچہ مقتدیٰ الصدر عراق پہنچ گئے ہیں لیکن یہ واضح نہیں کہ وہ کب تک یہاں رہیں گے۔

وزیرِ اعظم نوری المالکی کے دفتر کے ایک ترجمان نے تصدیق کی کہ مقتدیٰ الصدر کو لے کر ایک جہاز ملک شہر کے جنوبی حصے میں بدھ کی دوپہر کو اترا۔

انھوں نے نجف میں امام علی کے روضے پر حاضری دی اور اپنے والد کی قبر پر گئے جہاں سے وہ اپنے خاندانی گھر گئے۔

خبر ملی ہے کہ مقتدیٰ الصدر کے سینکڑوں حمایتی جنھوں نے انھیں سنہ دو ہزار سات کے بعد سے دیکھا نہیں ہے، ان کے گھر کے باہر جمع ہو رہے ہیں۔

ادھر ایران کے قائم مقام وزیرِ خارجہ علی اکبر صالحی پہلے سینیئر ایرانی اہلکار ہیں جو عراق کے دورے پر آئے ہیں۔ ان کا دورہ عراق میں نئی حکومت کے قیام کے بعد پہلا اہم دورہ ہے۔

صالحی نے اپنے عراقی ہم منصب ہوشیار زبیری اور وزیرِ اعظم نوری المالکی سے مذاکرات کیے۔ دونوں جانب سے تعلقات کو مزید فروغ دینے پر زور دیا گیا۔