جاسوسی کے الزام میں گدھ گرفتار

گدھ
Image caption مبینہ جاسوس گدھ کو سعودی عرب کے شہر حیال میں پکڑا گیا ہے

سعودی عرب نے ایک گدھ کو اسرائیلی جاسوس ہونے کے الزام میں حراست میں لیا ہے جبکہ اسرائیلی حکام نے اسے مزاحیہ قرار دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس گدھ کے جسم میں ایک جی پی ایس ٹرانسمٹر لگا ہوا تھا جس پر تل اویو یونیورسٹی کا نام تھا۔ اس کے بعد یہ افواہ پھیل گئی یہ یہودیوں کی سازش ہے۔

اسرائیل کے محمکہ جنگلات کے حکام نے ان الزامات کو مزاحیہ قرار دیتے ہوئے گدھ کے مستقبل پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

گزشتہ ماہ مصر کے اہلکاروں نے کہا تھا کہ ان کے سمندری ساحل پر شارک مچھلیوں پر ہوئے حملے کے پیچھے اسرائیل کا جاسوسی ادارہ موساد کا ہاتھ تھا۔

اس گدھ کو سعودی عرب کے شہر حیال میں کچھ دن پہلے پکڑا گیا تھا۔

اس واقعہ کے بعد سعودی عرب کی میڈیا میں یہ خبر عام ہوگئی کہ اسرائیل جاسوسی کے لیے پرندوں کا استعمال کررہا ہے۔

اسرائیل میں پارک اور نیچرل اتھارٹی میں پرندوں کے ایک ماہر ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ گدھ کے جسم پر لگا ٹرانسمٹر صرف یہ بتاتا ہے کہ یہ گدھ کس رفتار اور کس اونچائی پر اڑ رہا ہے۔

انہوں نے اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر کہا ’اس پرندے نے بہت بڑی قیمت ادا کی ہے۔ یہ افسوس کی بات ہے۔ مجھے امید ہے کہ وہ گدھ کو آزاد کردیں گے۔‘

اسی بارے میں