ریڈار پر نظر نہ آنےوالا چینی طیارہ

چین کی ایک ویب سائٹ پر ایسی تصاویر جاری کی گئی جس میں ایک ایسے بمبار طیارے کو دکھایا گیا ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ریڈار پر نظر نہ آنے والا سٹیلتھ بمبار ہے ۔امریکہ کے بعد چین دنیا کا دوسرا ملک ہوگا جس کے پاس یہ سٹیلتھ بمبار طیارہ ہو گا۔

امریکہ کےپاس لاک ہیڈ مارٹن ایف 22 ریپٹر طیارہ دنیا میں واحد سٹیلتھ بمبار ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ روس بھی ایک سٹیلتھ طیارے کی ابتدائی ماڈل پر کا م کر رہا ہے۔

چین کےممکنہ سٹیلتھ بمبار کی تصاویر ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب امریکہ کے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس چین کا دورہ کرنے والے ہیں۔

امریکہ نےچین کےسٹیلتھ بمبار طیارے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین کو اس طیارے کو فوج میں شامل کر نے میں کئی سال لگیں گے۔ لیکن امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔

چین کےسٹیلتھ بمبار طیارے جے20 بمببار کی تصویر ایسے وقت شائع ہوئی ہیں جب چین کےایک جنرل نےمطالبہ کیا ہے کہ چین کےدفاعی بجٹ کو دوگنا کرنے کی ضرورت ہے۔

جاپان نے چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت کو اپنے لیے سب سے بڑی پریشانی قرار دیا ہے۔

چین نے ان تصاویر کو تبصرہ نہیں کیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ چین میں کام کرنے والی ایک ویب سائٹ کی طرف سے ایسی تصاویر کا شائع کیا جانا اور حکومت کی طرف سے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہونے سے لگتا ہے کہ اسے چینی حکومت کی حمایت حاصل ہے۔

چین کا کہنا ہے کہ اس کا فوجی پروگرام کسی دوسرے ملک کے لیے خطرہ نہیں ہے۔

امریکہ کے دفاعی بجٹ کا حجم سات سو بلین ڈالر ہے جبکہ چین کا سالانہ دفاعی بجٹ 76 بلین ڈالر ہے جو دنیا میں دوسرا بڑا فوجی بجٹ ہے۔

چین کے ایک جنرل جیانگ لومنگ نے حال ہی میں کیمونسٹ پارٹی کے ایک جریدے میں شائع ہونے والے آرٹیکل میں تجویز پیش کی ہے کہ چین کو اپنے دفاعی بجٹ کو دوگنا کرنے کی ضرورت ہے۔ جنرل جیانگ لومنگ کی دلیل ہے کہ چین کے موجودہ دفاعی بجٹ کو دوگنا کرنے سے چین کی شرح نمو کا صرف دو اعشاریہ آٹھ فیصد ہو گا جو دنیا کے ایک سو اڑتیس ملکوں میں رائج ہے۔

یورپی یونین نے ٹینامن سکوائر میں احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف کارروائی کے بعد یورپی یونین نے چین کو ہر قسم کے اسلحہ کی فروخت پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ چینی اہلکاروں نے کئی بار کہا ہے کہ یورپی یونین کی پابندیوں کی وجہ سے چین کو دفاعی معاملات پر زیادہ رقم خرچ کرنے پر مجبور ہے۔