یورپی اتحاد کا نمائندہ دورہ کر لے: ایران

ایران کی ایک جوہری سائٹ
Image caption آخری مرتبہ ایران نے اپنی جوہری تنصیبات فروری سنہ دو ہزار سات میں کھولی تھیں

یورپی اتحاد ایران کی اس پیشکش کو ٹھکرانے والا ہے کہ یورپی یونین کا سفیر ایران کی جوہری تنصیبات کا دورہ کر لے۔

یورپی اتحاد کی خارجہ پالیسی کی سربراہ بیرنس ایشٹون کا کہنا ہے کہ یہ اقوامِ متحدہ کے توانائی کے عالمی ادارے کا کام ہے کہ وہ ایران کی جوہری تنصیبات کا معائنہ کرے۔

ایران کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کے سوا کئی ملکوں کے نمائندوں کے لیے اپنی جوہری تنصیبات کھولنے کو تیار ہے۔ ان ملکوں میں روس اور چین بھی شامل ہیں۔

بہت سے مغربی ممالک کو شبہہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام سویلین مقاصد کے لیے ہے۔

بیرنس ایشٹن نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ’میں یہ کہوں گی کہ یہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے کا کام ہے کہ وہ جوہری تنصیبات کا معائنہ کرے اور مجھے قوی امید ہے کہ ایران یہ یقینی بنائے گا کہ عالمی ادارے کے انسپکٹر ایران جا سکیں اور اپنا کام مکمل کر سکیں۔

اس سے قبل امریکی محکمۂ خارجہ نے ایران کی یورپی ممالک کے نمائندوں کے لیے اپنے جوہری تنصیبات کھولنے کی پیشکش کو ایک ’چالاک ڈھکوسلا‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی تھی۔

آخری مرتبہ ایران نے اپنی جوہری تنصیبات فروری سنہ دو ہزار سات میں کھولی تھیں۔

ایران اور اقوام متحدہ کے سکیورٹی کاؤنسل کے پانچ مستقل ارکان امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق دوسرے مرحلے کی بات چیت جنوری کے آخر میں میں ہونی ہے حالانکہ ابھی اس بات چيت کی کوئی تاریخ طے نہیں ہے۔

اسی بارے میں