جنوبی سوڈان میں آزادی کے سوال پر ریفرنڈم

Image caption ریفرنڈم کے موقع پر عوام میں زبردست جوش پایا جاتا ہے

افریقہ کا سب سے بڑا ملک سوڈان تقسیم کے دہانے پر کھڑا نظر آ رہا ہے اور ملک کے جنوبی حصے کے شہری اتوار کو تاریخی ریفرنڈم میں یہ فیصلہ کر رہے ہیں کہ آیا انہیں شمالی حصے کے ساتھ رہنا ہے یا الگ ہونا ہے۔

اس ریفرنڈم کے حوالے سے ملک کے جنوبی علاقوں میں جوش و خروش پایا جاتا ہے اور ووٹنگ کے آغاز سے قبل ہی ہزاروں افراد پولنگ مراکز کے باہر جمع ہوگئے تھے۔

اس ریفرنڈم میں سب سے پہلے ووٹ ڈالنے والوں میں جنوبی سوڈان کے صدر سلوا کیر بھی شامل تھے۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ’یہ وہ تاریخی موقع ہے جس کے جنوبی سوڈان کے عوام منتظر تھے‘۔

ریفرنڈم کا عمل ایک ہفتے تک جاری رہے گا اور نامہ نگاروں کے مطابق عام خیال یہی ہے ریفرنڈم کے نتیجے میں دنیا ایک نئے ملک کو معرضِ وجود میں آتے ہوئے دیکھے گی۔

جنوبی سوڈانی علاقوں میں ریفرنڈم کا فیصلہ سنہ 2005 میں ہونے والے اس امن معاہدے کا حصہ تھا جس کے نتیجے میں دو عشروں پر محیط خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا تھا۔ اس بائیس سالہ خانہ جنگی میں پندرہ لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سوڈان کا شمالی حصہ امیر، زیادہ تر عربی زبان بولنے والے اور مسلمان آبادی پر مشتمل ہے جبکہ جنوبی حصہ سالوں سے لڑائی میں گِھرا رہا ہے اور یہ ایک نظر انداز کیا گیا حصہ ہے۔ سوڈان میں جنگ اور غربت غذا کی عدم دستیابی کی اہم وجوہات ہیں اور جنگ زدہ علاقوں دارفور اور جنوبی سوڈان کے شہری اب بھی غذا کے لیے امداد پر انحصار کرتے ہیں۔

شمالی سوڈان کے مسلم رہنماؤں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ جنوبی سوڈان کی شکل میں تشکیل پانے والے اس نئے ملک کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے جس کی زیادہ تر آبادی یا تو عیسائی ہے یا دیگر روایتی مذاہب کی پیروکار ہے۔

Image caption جنوبی سوڈان کی علیحدگی سے عدم استحکام پیدا ہوگا: عمر البشیر

تاہم سوڈان کےصدر عمر البشیر نےمتنبہ کیا ہےکہ ملک میں ہونے والے ریفرنڈم کے موقع پر جنوبی سوڈان کی علیحدگی سے ملک میں عدمِ استحکام پیدا ہوگا۔

انہوں نے الجزیرہ ٹی وی کو بتایا کہ جنوبی سوڈان ایک مستحکم ریاست بنانے کا اہل نہیں اور نہ ہی وہ اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات پر تشویش ہے کہ نیا ملک آنے والے حالات سے کیسے نبردآزما ہو گا۔ عمر البشیر نے واضح کیا کہ ریفرنڈم کےنتیجے میں جنوبی سوڈان کی شمالی سوڈان سے علیحدگی کی صورت شمالی سوڈان میں بسنے والے جنوبی سوڈانی باشندوں کو دوہری شہریت نہیں دی جائی گے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ صدر عمر البشیر کو شمالی سوڈان کے سیاستدانوں کی طرف سے دباؤ کا سامنا ہے جو سمجھتے ہیں کہ جنوبی سوڈان کی علیحدگی سے ملک کے مزید ٹکڑے ہونے کے راستے کھل جائیں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال انصاف کی بین الاقوامی عدالت نے صدر بشیر کو دارفور میں جنگی جرائم میں ملوث قرار دے کر ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔

اسی بارے میں