ترکی: فحش فلم بنانے پر تین اساتذہ معطل

بلجی یونیورسٹی
Image caption اس فلم کے خلاف کئی اساتذہ نے بھی احتجاج کیا ہے

ترکی ایک مقبول یونیورسٹی کے تین اساتذہ کو ان کے عہدوں سے اس لیےمعطل کردیا ہے کیونکہ انہوں نےایک طالب علم نے کو پی ایچ ڈی کے لیے فحش فلم بطور مقالہ پیش کرنے کی اجازت دی تھی۔

استنبول میں واقع بلجی یونیورسٹی میں شعبہ فلم میں تعلیم حاصل کرنے والے ا یک طالبعلم نے اپنے پی ایچ ڈی مقالہ کے لیے فحش فلم کا آئیڈیا پیش کیا۔ ابتدائی طور پر تینوں اساتذہ اس آئیڈیا کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے لیکن اس شرط پر یہ مقالہ پیش کرنے کی اجازت دے کہ اس فلم میں جنسیت کے بارے میں ایک دانشورانہ نکتہ پر بحث ہونی چاہیے۔

جب طالبعلم ڈینز اوزگن نے اپنی فحش فلم اپنے اساتذہ کو پیش کی تو انہوں نے اسے مسترد کر دیا کیونکہ وہ دانشورانہ معیار پر پوری نہیں اترتی تھی۔

جب طالبعلم نےایک انٹرویو میں ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ انہوں نے اپنی فحش فلم کی عکس بندی یورنیورسٹی کیمپس پر کی تو یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم نوجوانوں کے والدین نے اس پر اعتراض کیا۔

یونیورسٹی نے شعبہ فلم کے تینوں اساتذہ کو معطل کرنے کے بعد شعبہ فلم کو وقتی طور پر بند کر دیا ہے۔

پولیس نے معاملہ کی تفتیش شروع کر دی ہے۔

بلجی ترکی کی سب سے باوقار یونیورسٹیوں میں ایک ہے اور وہاں پڑھنے والے طلباء کے والدین نے سوال اٹھایا کہ کیمپس میں کس طرح کی تریبیت دی جاتی ہے۔

اس کے بعد یونیورسٹی کےبعض ٹیچرز اور بورڈ آف ایجوکیشن نے یونیورسٹی پر دباؤ ڈالا کہ اس پروجیکٹ سے منسلک لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

اسی بارے میں