آسٹریلیا: سیلاب سے آٹھ ہلاک، ستر لاپتہ

Image caption حکام کے مطابق بڑی تعداد میں لوگ گاڑیوں اور مکانوں کی چھتوں پر محصور ہیں

آسٹریلیا کی ریاست کوئنز لینڈ میں حکام کے مطابق سیلابی ریلوں میں آٹھ فراد ہلاک اور ستر سے زائد لاپتہ ہو گئے ہیں۔

ریاست کے ٹو وومبا نامی شہر میں سیلابی ریلے اچانک آئے اور لوگوں کو پہلے سے کوئی اطلاع نہیں تھی۔

حکام نے سیلاب کے خطرے کے پیش نظر آسٹریلیا کے تیسرے بڑے شہر اور ریاست کے دارالحکومت برسبین میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا حکم دیا ہے۔

نشیبی علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے مکانوں کو خالی کر دیں۔

ایک مقامی اہلکار کے مطابق دریا میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہو رہی ہے اور صرف ایک گھنٹے کے دوران دریا کی سطح میں ایک اعشاریہ پانچ میٹر اضافہ ہوا ہے۔

ریاست کی سربراہ اینا بیلائے نے کہا ہے کہ جب سے سیلاب شروع ہوا ہے ان میں ٹو وومبا میں آنے والے سیلابی ریلے کوئنز لینڈ کا ’ سیاہ ترین گھنٹہ‘ تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں دو بچے بھی شامل ہیں اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

آسٹریلیوی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے مطابق اینا بیلائے نے کہا ہے کہ ’ یہاں ریاست میں آج رات صورتحال بہت سنگین اور مایوس کن ہے۔‘

سیلاب کے بعد مکانوں کی چھتوں اور گاڑیوں میں محصور افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے امدادی سرگرمیوں میں ہیلی کاپٹر استعمال کیے جا رہے ہیں۔

ٹو وومبا شہر کے میئر نے سیلاب کو ناقابل یقین کہتے ہوئے کہا ہے کہ شہر صدمے میں ہے۔

ریاست کوئنز لینڈ کے ڈپٹی پولیس کمشنر کا کہنا ہے کہ انھیں لوگوں کی جانب سے مدد کے لیے بہت کالز موصول ہوئی ہیں اور امدادی کارکن صورتحال سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

’ گاڑیوں، گلیوں اور سیلابی راستوں میں پھنسے افراد کی جانب سے مدد کے لیے ہمیں بہت زیادہ کالز موصول ہوئی ہیں۔‘

علاقے میں مزید بارشوں کی پیشنگوئی کی گئی ہے جبکہ ہمسایہ ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں بھی سیلاب کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

ریاست میں گزشتہ سال نومبر میں سمندری طوفان شروع ہوئے تھے جس کے بعد کئی دہائیوں کے بعد بدترین سیلاب آئے ہیں اور ریاست میں اب تک دو لاکھ لوگ متاثر ہو چکے ہیں۔

سیلاب کی وجہ سے فصلوں، سڑکوں اور ریلوے کے نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے جب کہ ریاست میں کوئلے کی صنعت بند ہونے کے قریب ہے۔‘

حکام کے مطابق سیلاب سے ہونے والا نقصان پانچ ارب آسٹریلیوی ڈالر سے تجاوز کر سکتا ہے۔

اسی بارے میں