حقوقِ انسانی کی وکیل کوگیارہ سال قید

نسرین ستودے فائل فوٹو
Image caption وکالت کرنے اور ملک چھوڑ کر جانے پر بیس سال کی پابندی بھی عائد کی گئی ہے

ایران میں انسانی حقوق کی مشہور وکیل نسرین ستودہ کو گیارہ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

نسرین ستودہ کے شوہر نے بتایا ہے کہ ان پر بیس سال تک بطور وکیل کام کرنے اور ملک چھوڑ کر جانے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

نسرین ستودہ کو گزشتہ برس ستمبر میں گرفتار کیا گیا تھا ان پر قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

ایران میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی امریکی ادارے نے کہا ہے کہ یہ سزا نہیں سنائی گئی بلکہ ’انصاف کا قتل‘ ہوا ہے۔

دو بچوں کی ماں نسرین ستودہ کے شوہر رضا خاندان نے بتایا کہ نسرین کو قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے ، حکومت کے خلاف تشہیر کرنے اور ہیومن رائٹس ڈفینڈرز سینٹر کی رکنیت لینے کا قصوروار قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان پر یہ تمام الزامات غیر مالکی زرائع ابلاغ کے ساتھ نسرین کے ان انٹرویوز کے بعد لگائے گئے ہیں جن میں انہوں نے ایران میں 2009 کے متنازعہ صدارتی انتخابات کے بعد جیل میں قید اپنے کلائنٹس کے بارے میں بات کی تھی۔

نسرین ستودہ نے ایران کے حزبِ اختلاف کے کارکنوں ، سیاسی رہنماؤں اور ہیومن رائٹس ڈفینڈرز سینٹر کی کی سربراہ شیریں عبادی کی پیروی کر رہی تھیں۔

سینٹر کے ترجمان ہادی کا کہنا ہے کہ یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے جس کا مقصد ایران میں انسانی حقوق کا دفاع کرنے والی ایک ممتاز وکیل کو وکالت کے پیشے سے محروم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ انصاف کا خون ہے‘۔

اسی بارے میں