تیونس: بےروزگاری پر احتجاج، پینتیس ہلاک

Image caption امریکہ اور یورپی اتحاد نے تیونس کی حکومت کی طرف سے جس طرح اس مسئلے سے نمٹا گیا ہے اس پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ آزادیِ رائے کا احترام کیا جائے۔

پیرس میں حقوقِ انسانی کی بین الاقوامی فیڈریشن نے کہا ہے کہ تیونس میں بدامنی اور پُر تشدد واقعات میں اب تک پینتیس افراد ہلاک ہو ئے ہیں۔

حکام کہتے ہیں کہ اس احتجاج میں جو اختتامِ ہفتہ پر بے روزگاری کے خلاف ہوا، صرف چودہ افراد مارے گئے۔

غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق تین دن میں کیسیرائن میں پچاس افراد ہلاک ہوئے۔

پیر کو حکومت نے تمام سکولوں اور جامعات کو تا حکمِ ثانی بند کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

تاہم حقوقِ انسانی کی عالمی فیڈریشن کی سربراہ کہتی ہی کہ ان کے پاس پینتیس ہلاک شدگان کے نام ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان کی تعداد پچاس تک ہو سکتی ہے اور یہی بات تیونس میں ٹریڈ یونین کی طرف سے میڈیکل سٹاف کے حوالے سے بھی کہی گئی ہے

انسانی حقوق کی بات کرنے والے کہتے ہیں کہ اب تشدد کی لہر کئی ساحلی شہروں تک پھیل گئی ہے جو تیونس کی ٹورازم کی صنعت کے لیے بہت اہم ہیں۔

تھالا کے شہر میں ٹریڈ یونین کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس لوگوں کو جمع ہونے سے روک رہی ہے۔ حتیٰ کہ لوگوں کو وارننگ دی جا رہی ہے کہ وہ دہ دو کے گروپوں میں بھی نہ جمع ہوں۔ علاقے میں ان کے بقول کھانے پینے کی اشیا اور تیل کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔

ادھر امریکہ اور یورپی اتحاد نے تیونس کی حکومت کی طرف سے جس طرح اس مسئلے سے نمٹا گیا ہے اس پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ آزادیِ رائے کا احترام کیا جائے۔