’ایران کی جوہری تنصیبات کا دورہ‘

فائل فوٹو
Image caption چین، روس اور یورپی یونین سے تعلق رکھنے والے سفارتکاروں نے ایران کی اس دعوت کو مسترد کر دیا ہے

ایران میں حکام کے مطابق توقع ہے کہ غیر ملکی سفارت کار اس کی جوہری تنصیبات کا دورہ کریں گے۔

ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر حمایت حاصل کرنے کے لیے غیر ملکی سفارت کاروں کو جوہری تنصیبات کے دورے کی دعوت دی تھی۔

سنیچر سے شروع ہونے والے دو روزہ دورے میں ترکی، الجیریا، وینزویلا، شام اور عرب لیگ کے سفارت کاروں کو ایران کے ارک اور نتانز میں واقع جوہری تنصیبات کا دورہ کرایا جائے گا۔

تہران کا کہنا ہے کہ یہ دعوت اُن کے جوہری پروگرام کی شفافیت اور خیر سگالی کے جذبے کے طور پر دی گئی ہے تاہم اِس دورے میں امریکی حکام کو مدعو نہیں کیاگیا ہے۔

دوسری جانب چین، روس اور یورپی یونین سے تعلق رکھنے والے سفارت کاروں نے ایران کی اس دعوت کو مسترد کر دیا ہے۔

یورپی یونین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی سفارت کاروں کی جانب سے کیا جانے والا یہ دورہ جوہری تفتیش کاروں کے دورے سے بدلا نہیں جا سکتا۔

واضح رہے کہ ایران کی جانب سے یہ دعوت ایسے موقع پر دی گئی ہے جب ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر مذاکرات کا نیا سلسلہ شروع ہونے والا ہے۔

ایران کی ایٹمی توانائی کی تنظیم کے سربراہ علی اکبر صالحی کا کہنا ہےکہ دنیا کا کوئی بھی ملک اپنی جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت نہیں دیتا تاہم ایران کی جانب سے اس بات کی اجازت دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔

علی اکبر صالحی نے ایرانی میڈیا کو بتایا کہ ارک میں واقع جوہری تنصیبات کے دورے کے دوران غیرملکی سفارت کاروں کو ایران کی دوا سازی کے میدان میں حاصل کی جانے والی کامیابیوں کے بارے میں بتایا جائے گا۔

ایران میں بی بی سی کے نامہ نگار جیمس رینولڈس کا کہنا ہے کہ غیر ملکی سفارت کاروں کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات کے دورے کے نتیجے میں کئی مغربی ممالک میں ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے پائے جانے خدشات دُور نہیں ہو پائیں گے۔

مغربی ممالک کو شبہہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن تہران کا اصرار ہے کہ اُس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اگرچہ غیر ملکی سفارت کار نیوکلئیر سائنسدان نہیں ہیں اور وہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے کوئی بھی تسلی بخش جواب نہیں دے سکیں گے۔

ایران اور اقوامِ متحدہ کے سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل ارکان امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق دوسرے مرحلے کی بات چیت جنوری کے آخر میں میں ہونی ہے حالانکہ ابھی اس بات چيت کی کوئی تاریخ طے نہیں ہے۔

اسی بارے میں