کیوبا پر عائد امریکی پابندیوں میں نرمی

Image caption کیوبا پر عائد پابندیوں میں نرمی کا مقصد باہمی رابطوں کو بڑھانا ہے: صدر اوباما

امریکی صدر براک اوباما نے امریکی شہریوں کے کیوبا جانے پر عائد پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نےمتعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مذہبی گروپوں اور طالبعلموں کو کیوبا جانے کی اجازت دیں۔

صدر اوباما نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ رقم کی منتقلی سے متعلق قواعد میں نرمی سے کیوبا کی سول سوسائٹی کو فائدہ ہوگا۔ البتہ ان تبدیلوں سے عشروں پرانی کیوبا پر عائد امریکی پابندیاں ختم نہیں ہوں گی۔

امریکی صدر کی کیوبا پر عائد پابندیوں میں نرمی کے نتیجے میں مندرجہ ذیل تبدیلیاں ہوں گی۔

  • مذہبی تنظیمیں کیوبا کا دورہ کر سکیں گی۔
  • رجسٹرڈ اعلیٰ تعلیمی ادارے طلباء کے کیوبا کے دوروں کو سپانسر کر سکیں گے۔
  • کوئی بھی امریکی شہری تین مہینوں میں ایک بار پانچ سو ڈالر کسی ایسے شخص کو بھیج سکے گا جو اس کے خاندان سے نہ ہو۔
  • کیوبا میں مذہبی تنظیموں کو فنڈز منتقل ہو سکیں گے۔
  • امریکی ائرپورٹ کسی چارٹر طیارے کو اپنے ہاں اتارنے کی اجازت سے متعلق درخواست دے سکیں گے

امریکی صدر نے کہا کہ ان تبدیلوں کا مقصد امریکہ اور کیوبا کے لوگوں کے باہمی، مذہبی، تعلیمی اور تہذیبی رابطوں کو بڑھانا ہے۔

اس سے پہلے امریکی صدر نے اپریل دو ہزار نو میں کیوبا نژاد امریکی شہریوں پر کیوبا میں رقم بھیجنے پر عائد پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا تھا۔

فلوریڈا سے ریپبلیکن پارٹی کی عہدیدار الینا راس لہیٹنن نے کہا ہے کہ امریکی صدر کے اقدامات سے کیوبا کے اندرونی حالات بہتر نہیں ہوں گے اور فیدل کاسترو انتظامیہ کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے روکا نہیں جا سکے گا اور نہ ہی کیوبا کے شہریوں کو اس سے کوئی فائدہ پہنچے گا۔

یہ تبدیلیاں چھ ہفتوں میں نافذ العمل ہو سکیں گی۔

اسی بارے میں