تیونس: خطے کا ایک اہم کھلاڑی

Image caption حتجاجی مظاہروں کو کچلنے کے لیے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا گیا

قدیم شہر کارتھج کو اپنی بانہوں میں لیے جمہوریہ تیونس بحیرہِ روم کے خطے کا ایک اہم کھلاڑی ہے اور اس کی وجہ اس کا جغرافیہ ہے۔

شمالی افریقہ کے وسط میں واقع ہونے کی وجہ سے جمہوریہ تیونس کو صدیوں سے استعمال ہوتے آ رہے اہم بحری راستوں کی قربت کا اعزاز حاصل ہے۔

اپنے اپنے وقتوں میں رومی، عرب، عثمانی ترک اور فرانسیسی حکمران اس کی سٹریٹیجک اہمیت کے پیش نظر ہی خطے پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اس پر قبضہ کرتے رہے ہیں۔

جمہوریہ تیونس پر فرانس کا نوآبادیاتی راج سنہ انیس سو چھپن میں ختم ہوا جس کے بعد حبیب بورقیبا نے تیس سالوں تک حکمرانی کی۔

ان کے دور میں ملک میں سیکولر خیالات کو فروغ ملا جن میں خاص طور پر عورتوں کی ترقی اور حقوق پر توجہ دی گئی۔ ایک سے زیادہ شادیوں پر پابندی لگی اور لازمی مفت تعلیم جیسے اقدامات شامل ہیں۔ اسی لیے عرب دنیا میں سب سے زیادہ تیونس میں خواتین کے حقوق کو تحفظ حاصل ہے۔

حبیب بورقیبا اپنے دور اقتدار میں اسلام مخالف بنیاد پرستانہ پالیسی پر زور دینے کے ساتھ ساتھ اپنے اختیارات کو بھی بڑھاتے رہے جس کے نتیجے میں وہ مطلق العنان حکمران بن بیٹھے تھے۔

بالآخر سنہ انیس سو ستاسی میں اس بنیاد پر ان کا تختہ الٹ دیا گیا۔

اس کے بعد زین العابدین بن علی کے اقتدار کی راہ ہموار ہوئی اور وہ صدارت نشین ہوگئے۔

انہوں نے بھی مذہبی شدت پسندوں کے خلاف سخت گیر پالیسی اپنائے رکھی لیکن انہیں ورثے میں جو ملک ملا تھا وہ آج کے جمہوریہ تیونس کے مقابلے میں معاشی طور پر مستحکم تھا۔

اگرچہ ان کے دور میں تیونس میں صحافت کی آزادیوں کے کچھ قوانین متعارف کرائےگئے اور کئی سیاسی قیدیوں کو رہا بھی کیا گیا لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق جمہوریہ تیونس کے حکام، حکومت کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کرتے اور حکومت کے مخالفین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو ہراساں کرتے ہیں۔

جب زین العابدین بن علی کی پارٹی نے لگاتار تین انتخابات میں کامیابی حاصل کی، وہ بھی ننانوے اعشاریہ نو فیصد ووٹوں کے ساتھ تو نہ صرف ملک کے اندر بلکہ بیرون ملک بھی اس پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔

پھر انہوں سال دو ہزار چار اور اس کے بعد سال دو ہزار نو میں اپنے انتخابات میں حصہ لینے کا اہل بننے کے لیے آئین میں ترمیم بھی کی جس کی حزب اختلاف نے سخت مذمت کی۔

Image caption صدر زین العابدین کو ملک سے جان بچا کر بھاگنا پڑا

اپنے پڑوسی ملکوں کے مقابلے میں جمہوریہ تیونس زیادہ خوشحال ملک ہے اور اس کے یورپی ملکوں کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات ہیں۔ ملک کی افرادی قوت کا بڑا حصہ زراعت کے شعبے سے منسلک ہے جہاں زیادہ تر بارانی علاقوں میں کھجوریں اور زیتون کی کاشت کی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ ہر سال لاکھوں یورپی شہری تیونس کے سیاحتی مقامات کا رخ کرتے ہیں۔

حیرت انگیز بات یہ بھی ہے کہ آج سے کچھ عرصے پہلے تک جمہوریہ تیونس میں سیاسی تشدد کے واقعات شاذو نادر ہی تھے لیکن حالیہ برسوں میں مسلح اسلامی شدت پسند حکومت کے لیے مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ سال دو ہزار دو میں تیونس میں یہودیوں کی ایک عبادت گاہ پر خودکش حملہ ہوا تھا جس میں اکیس لوگ مارے گئے تھے اور اس کے بعد ملک میں سیاحوں کی تعداد میں بڑی حد تک کمی واقع ہوگئی تھی۔

سال دو ہزار چھ اور سات کے دوران سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں ایک درجن مشتبہ شدت پسند مارے گئے تھے۔

تیونس کے وکلاء کا کہنا ہے کہ سال دو ہزار تین میں گرفتاری کے خصوصی اختیارات ملنے کے بعد حکام نے شدت پسند گروہوں سے تعلق کے شبہے میں سینکڑوں شہریوں کو گرفتار کیا ہے۔

سال دو ہزار دس اور گیارہ کے دوران بے روزگاری اور سیاسی آزادیوں پر پابندیوں کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کو کچلنے کے لیے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا گیا ہے جس میں درجنوں لوگ مارے گئے ہیں لیکن عوامی مقبولیت کی وجہ سے سڑکوں پر احتجاج کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں بالآخر صدر زین العابدین کو ملک سے جان بچا کر بھاگنا پڑا ہے اور اب ان کی جگہ وزیر اعظم نے اقتدار سنبھالا ہوا ہے۔

اسی بارے میں