سوڈان: دو لخت ہونے کے اشارے

سوڈان

جنوبی سوڈان میں ریفرنڈم کے ابتدائی نتائج سےلگتا ہے کہ وہاں لوگوں نے شمال سے الگ ہوکر ایک نیا ملک بنانے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

ریفرنڈم کے مکمل نتائج اگلے ماہ تک حاصل ہو نگے۔لیکن توقع کی جا رہی ہے کہ خطے میں شمال سے علیحدگی کے حق میں بڑی تعداد میں لوگوں نے ووٹ ڈالے ہیں۔

یورپ میں رہنے والے جنوبی سوڈان کے لوگوں میں سے 97 فیصد نے ایک علیحدہ ملک کے حق میں ووٹ ڈالے ہیں۔

سوڈان میں شمالی سوڈان سے علیحدگی پر ایک ہفتہ قبل شروع ہونے والے ریفرنڈم میں بڑی تعداد میں لوگوں نے ووٹ ڈالے۔

اکیس سالہ خانہ جنگی سنہ دو ہزار پانچ میں امن معاہدے کے بعد بند ہوئی تھی۔ اس امن معاہدے میں شامل شق کے تحت ریفرنڈم کرایا گیا ہے۔

اس ریفرنڈم میں ووٹنگ کے اختتام پر جنوبی سوڈان کے عیسائی رہنما بشپ پال نے بیگل بجایا۔ ان کے مطابق یہ بیگل مسلمان اکثریت کے شمالی سوڈان کی حکمرانی کے اختتام کا پیغام ہے۔

جنوبی سوڈان کے دارالحکومت جوبا میں بشپ پال نے کہا ’میں نے اس دن کا اختتام بیگل بجا کر اس لیے کیا کہ یہ دن غلامی کا اختتام ہے اور سب سے بڑی بات کے ہم آزاد ہیں۔‘

ریفرنڈم کمیشن کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ ریفرنڈم میں 83 فیصد افراد نے ووٹ ڈالے۔ ان میں سے زیادہ تر ووٹ ایک ہفتہ قبل شروع ہوئے ریفرنڈم کے پہلے دنوں میں ڈالے گئے۔ ان دنوں میں سینکڑوں میٹر لمبی قطاریں دیکھنے کو ملیں۔

ریفرنزلا کے لیے آئے بین الاقوامی نگرانی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ریفرنزلا آزاد اور شفاف ہوا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ بات جنوبی سوڈان کے لوگوں کے لیے مطمئین بخش ہے کیونکہ ان کے لیے یہ ریفرنڈم بہت اہمیت رکھتا ہے۔

سوڈان کے صدر عمر البشیر کی نیشنل کانگریس جماعت کے ایک سینیئر ارکان نے کہا ہے کہ خرطوم ریفرنڈم کے نتائج کا احترام کرے گا۔

اسی بارے میں