’لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی ختم کرنے پر تیار‘

افغان بچی
Image caption طالبان کے ممانے سے ہی ملک میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی ہے

افغانستان کے وزیرِ تعلیم کا کہنا ہے کہ طالبان ملک میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی ختم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

افغانستان میں حکومت کے خلاف لڑنے والے طالبان نے خود اس سلسلے میں کوئی اعلان نہیں کیا۔2001 میں گرائی جانے والی طالبان کی حکومت کے تحت لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے یا ملازمت کی اجازت نہیں تھی۔

افغانستان کے وزیرِ تعلیم فاروق وردک نے یہ بات برطانوی روزنامہ ٹائمز کے میگزین سے بات کرتے ہوئے کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان میں پالیسی سازی کی سطح پر یہ بات سننے میں آئی ہے کہ اب وہ تعلیم کی مخالفت نہیں کر رہے یہاں تک کے اب وہ لڑکیوں کی تعلیم کے بھی خلاف نہیں ہیں۔

افغانستان کے وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ جلدی ہی حزبِ اختلاف ساتھ ان کے پرامن اور بامعنی مذاکرات ہونگے اور ان مذاکرات میں انسانی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار کوانٹن سمرول کا کہنا ہے کہ لڑکیوں اور خاتون اساتذہ کو سکول واپس جانے کی اجازت دینے کے لیے ملک بھر میں مقامی سطح پر طالبان اورگاؤں کے بزرگوں کے درمیان معاہدے ہو رہے ہیں۔

گزشتہ اکتوبر میں افعان صدر حامد کرزئی نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ملک میں جاری خوں ریز شورش کو ختم کرنے کی کوشش میں طالبان رہنماؤں کے ساتھ غیر سرکاری سطح پر مذاکرات ہو رہے ہیں۔

نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ مسٹر وردک کے اس بیان سے ایسا لگتا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات قیدیوں کی رہائی جیسے مسائل سے کہیں آگے چلے گئے ہیں۔

تاہم افغانستان کی ممبرانِ پارلیمنٹ نے لڑکیوں کی تعلیم پر طالبان کی موقف میں نرمی پر یقین کرنے سے انکار کر دیا۔

وردک سے رکن پارلیمان روشناک وردک کا کہنا ہے کہ حالانکہ یہ بات افغان حکومت نے کہی ہے لیکن یہ سچ نہیں لگتی۔ان کا کہنا تھا ’مجھے اس پر یقین نہیں کیونکہ ہمارے یہاں چھ پشتون اضلاع ہیں اور یہاں لڑکیوں کے تمام سکول مکمل طور پر بند ہیں‘

اسی بارے میں