تیونس: احتجاج کے اسباب کیا ہیں

تیونس میں جاری حالیہ شورش عرب دنیا میں جدید دور کے دوران کسی حکمراں کو اقتدار سے علیحدہ کرنے کی پہلی عوامی کوشش ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار پال ہارپر کا کہنا ہے کہ شاید یہ عرب دنیا کے ایسے پہلے مظاہرے بھی ہیں جن میں سماجی رابطے کی ویب سائیٹس، فیس بک اور ٹوئیٹر نے ایک کلیدی کردار ادا کیا۔ اِس کے علاوہ یہ بھی شاید پہلی مرتبہ ہے کہ وکی لیکس کے حالیہ انکشافات نے کسی ملک کی سیاسی صورتحال پر اتنا گہرا اثر ڈالا ہو۔

گزشتہ ماہ وکی لیکس کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے خفیہ امریکی دستاویزات کے طوفان میں تیونس میں تعینات امریکی سفارت کاروں کے خیالات پر مبنی پیغامات کو بظاہر کوئی خاص اہمیت نہیں ملی۔

ایسی ہی ایک امریکی کیبل میں کہا گیا کہ تیونس میں بدعنوانی بد سے بد تر ہوتی جا رہی ہے۔ کیبل میں مزید کہا گیا کہ چاہے نقد رقم ہو، زمین ہو، جائیداد ہو یا آپ کی پرآسائش کشتی ہی کیوں نہ ہو صدر بین علی کا خاندان اِسے نہ صرف ہتھیا سکتا ہے بلکہ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ وہ ملک میں جو چاہے حاصل کرلیتے ہیں۔

ایک کیبل میں ذکر آیا کہ کس طرح صدر کے دو بھانجوں نے ایک فرانسیسی بزنس مین کی کشتی پر قبضہ کیا۔ جب کہ ایک اور کیبل میں امریکی سفیر نے صدر کے داماد کی جانب سے دیے گئے ایک پرتئیش ضہرانے کا ذکر کیا جہاں نہ صرف پنجرے میں بند ایک شیر موجود تھا بلکہ برتن سینٹ ٹراپیز سے منگوائے گئے تھے۔