آخری وقت اشاعت:  پير 17 جنوری 2011 ,‭ 23:50 GMT 04:50 PST

سابق صدر کے ساتھی گرفتار، تازہ جھڑپیں

علی سیریاتی کو اتوار کو گرفتار کیا گیا

تیونس میں صدارتی محل کے نزدیک سکیورٹی فورسز اور سابق صدر زین العابدین بن علی کے محافظین کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق یہ واقعہ دارالحکومت کے شمال میں کارتھیج کے علاقے میں پیش آیا ہے اور انہوں نے شدید فائرنگ کی آوازیں سنی ہیں۔

یہ فائرنگ صدارتی محافظین کے سابق سربراہ علی سیریاتی کی گرفتاری کے بعد ہوئی ہے۔ علی سیریاتی پر تشدد کو ہوا دینے اور قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے الزامات لگائےگئے ہیں۔

تیونس میں صدر کے مستعفی ہونے کے بعد بھی تشدد اور لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے اور ان واقعات میں اب تک بیالیس سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دارالحکومت میں کرفیو دوبارہ نافذ کر دیا گیا ہے اور فوج اہم عمارتوں اور سڑکوں کی نگرانی کر رہی ہے۔

جہاں تیونس کی فوج سیاسی اصلاح کے اس عمل میں دخل نہیں دے رہی وہیں سابق صدر کی حامی سکیورٹی سروسز اور پولیس کے ارادے نیک نظر نہیں آئے اور علی سیریاتی کی گرفتاری کے چند گھنٹے بعد ہی صدرارتی محل کے پاس شدید فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار

ادھر ملک کے عبوری صدر اور پارلیمان کے سپیکر فواد مبیزا نے وزیراعظم محمد غنوشی سے کہا ہے کہ وہ قومی اتحاد پر مبنی حکومت تشکیل دیں۔ وزیراعظم غنوچی نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ پیر کو سیاسی جماعتوں کے درمیان معاہدے کا اعلان کیا جائے گا۔

انہوں نے ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والے کسی بھی فرد سے سختی سے نمٹنے کا اعلان بھی کیا۔

تیونس میں ہنگامی حالت برقرار ہے اور نظامِ زندگی معطل ہے۔

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

تیونس میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جہاں تیونس کی فوج سیاسی اصلاح کے اس عمل میں دخل نہیں دے رہی وہیں سابق صدر کی حامی سکیورٹی سروسز اور پولیس کے ارادے نیک نظر نہیں آئے اور علی سیریاتی کی گرفتاری کے چند گھنٹے بعد ہی صدرارتی محل کے پاس شدید فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے تیونس کی فوج کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’فوج نے محل پر حملہ کیا ہے جہاں صدارتی محافظین چھپے ہوئے ہیں‘۔ اس کے علاوہ وزارتِ داخلہ اور حزبِ اختلاف کی ایک جماعت کے ہیڈکوارٹر کے پاس سے بھی فائرنگ کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

تیونس کی فوج نے وزراتِ داخلہ کی عمارت کے نزدیک فائرنگ کرنے والے دو لوگوں کوگولی مار کر ہلاک بھی کیا ہے۔

تیونس میں صدر کے مستعفی ہونے کے بعد بھی تشدد اور لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے اور ان واقعات میں اب تک بیالیس سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دارالحکومت میں کرفیو دوبارہ نافذ کر دیا گیا ہے اور فوج اہم عمارتوں اور سڑکوں کی نگرانی کر رہی ہے۔

اتوار کو ہنگاموں کے دوران سابق صدر اور ان کے خاندان سے متعلقہ افراد کی تجارتی عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ لوگ اپنے گھروں میں ڈنڈے لے کر بیٹھے ہوئے ہیں تاکہ لوٹ مار کرنے والے افراد سے نمٹ سکیں۔

جمعہ کو تیونس میں غیر معمولی مظاہروں کے بعد مستعفی ہونے والے صدر زین العابدین اپنے اہلخانہ کے ساتھ ملک چھوڑ کر سعودی عرب چلے گئے تھے اور وزیرِاعظم محمد غنوشی نے اقتدار سنبھال لیا تھا۔

واضح رہے کہ تیونس میں بیروزگاری اور کر پشن کے خلاف گزشتہ تین ہفتوں سے مظاہرے جاری تھے جن میں صدر زین العابدین سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔

زین العابدین بن علی سنہ انیس سو ستاسی سے اقتدار میں تھے۔ انھوں نے مظاہرے شروع ہونے کے بعد جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ وہ سال دو ہزار چودہ میں اقتدار چھوڑ دیں گے۔ تاہم مظاہرین، جن میں زیادہ نوجوان تھے، کا کہنا تھا کہ ملک میں جمہوریت اور تبدیلی کے لیے صدر کا جانا ضروری ہے

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔