عراق میں خود کش حملہ، درجنوں ہلاک

فائل فوٹو
Image caption عراق میں تشدد کم تو ہوا ہے لیکن دھماکے نہیں رکے ہیں

عراق میں حکام کہ کہنا ہے کہ تکریت شہر میں پولیس کے بھرتی مرکز میں ایک خود کش دھماکے میں کم از کم ساٹھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

اس حملے میں تقریبا سوا سو لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق خود کش حملہ آور نے دھماکہ خيز مواد سے بھری جیکٹ پہن رکھی تھی اور اس نے اس جگہ پر اپنے آپ کو دھماکے سے اڑادیا جہاں بھرتی کے لیے بہت سے لوگ قطار میں کھڑے تھے۔

اطلاعات کے مطابق پولیس میں بھرتی کے لیے بہت سے لوگ جمع ہوئے تھے اورانٹرویو میں اپنی باری کے لیے قطار میں کھڑے تھے۔

گزشتہ اکتوبر کے بعد سے عراق میں اس طرح کے کسی واحد حملے میں اتنے زیادہ افراد پہلی بار ہلاک ہوئے ہیں۔ اکتوبر میں بغداد کے ایک چرچ کے محاصرے میں پچاس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تکریت شہر بغداد کے جنوب میں ایک سو تیس میل کے فاصلے پر واقع ہے اور سابق معزول صدر صدام حسین کا تعلق اسی شہر سے تھا۔

عراق میں اگرچہ مجموعی طور پر تشدد میں کمی آئی ہے لیکن بم دھماکے اور خود کش حملے اب بھی ہوتے رہتے ہیں۔

اسی بارے میں