عراق جنگ کی انکوائری پھر شروع

ٹونی بلیئر
Image caption اس سے پہلےٹونی بلیئر کمیشن کے سامنے پیش ہوئے تھے

عراق جنگ کی انکوائری کرنے والا چلکوٹ کمشن تقریباچھ ماہ بعد اپنی کارروائی دوبارہ شروع کرنے والا ہے۔

اس مرحلے پر کمشن برطانوی فضائیہ کے سابق سربراہ ایئر چیف مارشل سرگلین ٹروپی سے تین گھنٹے تک پوچھ گچھ کرے گا۔

سرگلین ٹروپی کمشن کے سامنے جمعہ کے روز پیش ہوں گے جس روز سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر بھی دوبارہ کمشن کے سامنے پیش ہونے والے ہیں۔

سابق اٹارنی جنرل لارڈ گولڈ سمتھ نےگزشتہ روز جو تحریری ثبوت مہیا کیے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ دو ہزار تین میں حملے سے پہلے وہ سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کے موقف سے مطمئن نہیں تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ جنوری دوہزار تین میں ٹونی بلیئر کا یہ بیان کہ اقوام متحدہ کی مزید حمایت کے باوجود برطانیہ عراق پر حملہ کر سکتا، ان کے قانونی مشورہ سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔

ان کے بیان کے مطابق انہیں یہ یاد نہیں کہ بیانات کے متعلق انہیں کب پتہ چلا تھا لیکن ان کے مطابق وہ اس کے بارے میں غیر مطمئن تھے اور انہیں یقین ہے کہ انہوں نے اپنی تشویش کا اس وقت کے وزیر خارجہ جیک سٹرا اور اپنے سٹاف سے ذکر بھی کیا تھا۔

سر گلین سے برطانوی فضائیہ کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے دو ہزار تین میں عراق کے حملے کے متعلق ان کے رول کے بارے میں میں سوالات کیے جائیں گے۔

جمعہ کو جب ٹونی بلیئر کمیشن کے سامنے پیش ہوں گے تو ان سے ان کے اور اٹارنی جنرل کے بیانات میں تضاد کے متعلق سوال کیا جائیگا۔ وہ یہ کہ اٹارنی جنرل نے ان سے اقوام متحدہ کی طرف سے فورس کے استعال کی اجازت کے لیے ایک دوسری قرارداد کو ضروری بتایا تھا جبکہ اس وقت وزیر اعظم عوام میں کس طرح کی باتیں کہہ رہے تھے۔

کمشن اس دفعہ پہلی بار موجودہ کابینہ سیکریٹری سرگس اوڈونل اور سابق کابینہ سیکریٹری لارڈ ولسن سے بھی پوچھ گچھ کرےگا۔

کمیشن نے ٹونی بلیئر کے ساتھ ساتھ سابق وزیر خارجہ جیک سٹرا، ایڈمرل لارڈ بائس، دو ہزار ایک اور تین کے درمیان کے چیف آف ڈیفنس سٹاف اور سابق کابینہ کے وزیر لارڈ ٹرنبل کو بھی طلب کیا ہے۔

عراق جنگ میں برطانوی کردار اور اس کے بعد کی صورت حال سے متعلق انکوائری کرنے والے کمیشن کے سربراہ سر جان چلکوٹ ہیں۔

کمیٹی اس معاملے پر نومبر دو ہزار نو سے کھلی سماعت کر رہا ہے اور سابق وزیراعطم ٹونی بلیئر سمیت سابقہ لیبر حکومت کے کئي وزراء، سینیئر فوجی حکام، اعلی سول ملازمین اور سفارت کاروں سے سوالات کیے ہیں۔

آج سے کمیشن کی آخری مرحلے کی پوچھ گچھ شروع ہوگی اور امکان ہے کہ اس برس موسم گرما تک کمشن کی رپورٹ تیار ہوجائیگي۔

اسی بارے میں