’درجنوں افغان طالبان حکومت سے مل گئے‘

Image caption قندوز میں افغان اور اتحادی افواج کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے

افغانستان کے شمالی صوبے قندوز میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں ایک فوجی کارروائی کے نتیجے میں کم از کم چالیس طالبان نے ہتھیار ڈالنے اور سکیورٹی فورسز کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

پولیس کے صوبائی سربراہ عبدالرحمان سیدخیلی کے مطابق طالبان نے تاجکستان کی سرحد کے قریب واقع ضلع امام صاحب میں ہتھیار ڈالے۔

تاہم افغانستان میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس خبر کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ کوئی طالب حکومت سے نہیں ملا ہے۔

عبدالرحمان سیدخیلی نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ گزشتہ چند مہینوں میں دس سے پندرہ کی تعداد میں شدت پسندوں کے ہتھیار ڈالنے کا سلسلہ جاری تھا تاہم منگل کو درجنوں طالبان نے خود کو قانون کے حوالے کیا ہے۔

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار داؤد اعظمی کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ قندوز میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے کارروائیوں میں تیزی لانے کے اعلان کے بعد مقامی دیہات کے معزز اور بزرگ افراد نے طالبان کو ہتھیار ڈالنے پر قائل کیا ہے۔

ہتھیار ڈالنے والے طالبان کے رہنما ملا محمد گل نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو ’القاعدہ اور دیگر غیر ملکی جنگجوؤں نے دھوکا دیا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’وہ افغانستان چھوڑ کر بھاگ گئے اور ہمیں بےیارو ددگار چھوڑ گئے۔

خیال رہے کہ قندوز سمیت افغانستان کے شمالی علاقوں میں جرمنی سے تعلق رکھنے والے ساڑھے تین ہزار نیٹو فوجی تعینات ہیں لیکن یہ واضح نہیں کہ وہ منگل کو ہونے والے آپریشن میں شریک تھے یا نہیں۔

قندوز اور اس سے ملحقہ علاقوں میں موجود شدت پسندوں کے خلاف افغان اور اتحادی افواج کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔

اسی بارے میں