تیونس:قومی حکومت قائم، 78 ہلاکتوں کی تصدیق

Image caption اب تیونس میں تمام سیاسی جماعتوں کو کام کرنے کی اجازت ہوگی:غنوشی

تیونس میں عوامی بغاوت کے نتیجے میں صدر زین العابدین بن علی کے ملک سے فرار ہونے کے بعد نئی قومی حکومت قائم کر دی گئی ہے۔

ادھر تیونس میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں ہونے والے حالیہ تشدد میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اٹھہتر ہے۔

حقوقِ انسانی کی تنظیمیں حالیہ بحران کے دوران درجنوں افراد کے مارے جانے کی بات کرتی رہی ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ تیونس حکومت کی جانب سے بھی اس بات کی تصدیق کی گئی ہے۔

وزیراعظم محمد غنوشی قومی حکومت کی سربراہی کریں گے اور اس حکومت کے اولین مقاصد میں ملک میں انتخابات کی راہ ہموار کرنی ہے۔ انہوں نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں نئی حکومت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اب سیاست میں اور ذرائع ابلاغ کو زیادہ آزادی دی جائے گی۔

اس قومی حکومت میں حزب اختلاف کے کئی اہم لوگوں کو شامل کیا گیا ہے جبکہ موجودہ حکومت کے کئی وزراء بھی اپنےعہدے پر برقرار رہیں گے جن میں وزیراعظم غنوشی کے علاوہ وزرائے خارجہ، داخلہ اور دفاع بھی شامل ہیں۔

وزیراعظم غنوشی کا کہنا تھا کہ اب تیونس میں تمام سیاسی جماعتوں کو کام کرنے کی اجازت ہوگی، سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا اور ذرائع ابلاغ کو ’مکمل آزادی‘ دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم نے ان تمام افراد کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو اپنے نظریات اور عقائد یا پھر اختلافِ رائے کی وجہ سے پابندِ سلاسل ہیں‘۔ انہوں نے وزارتِ اطلاعات کے خاتمے اور تیونس کو ایک ایسی ریاست بنانے کا اعلان کیا جہاں ذرائع ابلاغ کو ’مکمل آزادی‘ حاصل ہوگی۔

محمد غنوشی نے اپنی حکومت میں حزبِ اختلاف کے رہنما احمد ابراہیم کو وزیرِ برائے اعلٰی تعلیم جبکہ مصطفٰی بن جعفر کو وزیرِ صحت بنانے کا بھی اعلان کیا۔ ان کے علاوہ پروگریسو ڈیموکریٹک پارٹی کے بانی نجیب چیبی کو وزیرِ ترقیات بنایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ منحرف بلاگر سلیم امومو کو بھی امورِ نوجوانان اور کھیل کا سیکرٹری بنایا گیا ہے۔ سلیم امومو کو ملک میں حالیہ بحران کی ابتداء میں حراست میں لیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ سابقہ حکومت کے وزراء کو نئی حکومت میں شامل کرنے پر تیونس میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے جا رہے ہیں۔ پیر کو تقریباً ایک ہزار افراد نے تیونس کے دارالحکومت میں مظاہرہ کیا جس میں انہوں نے زین العابدین بن علی کی جماعت سے تعلق رکھنے والے حکومت عہدیداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ حکومت سے علیحدہ ہو جائیں۔

واضح رہے کہ تیونس میں بیروزگاری اور کر پشن کے خلاف گزشتہ تین ہفتوں سے جاری مظاہروں کے نتیجے میں صدر زین العابدین بن علی کو مستعفی ہونا پڑا تھا اور گزشتہ جمعہ کو وہ اپنے اہلخانہ کے ساتھ ملک چھوڑ کر سعودی عرب چلے گئے تھے اور وزیرِاعظم محمد غنوشی نے اقتدار سنبھال لیا تھا۔

زین العابدین بن علی سنہ انیس سو ستاسی سے اقتدار میں تھے۔ انھوں نے مظاہرے شروع ہونے کے بعد جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ وہ سال دو ہزار چودہ میں اقتدار چھوڑ دیں گے۔ تاہم مظاہرین کا، جن میں زیادہ نوجوان تھے، کہنا تھا کہ ملک میں جمہوریت اور تبدیلی کے لیے صدر کا جانا ضروری ہے

اسی بارے میں