آخری وقت اشاعت:  بدھ 19 جنوری 2011 ,‭ 23:54 GMT 04:54 PST

تیونس:صدر، وزیراعظم نے حکمران جماعت چھوڑ دی

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

تیونس میں قومی حکومت کے قیام کے اگلے ہی دن چار وزراء کے استعفوں کے بعد ملک کے عبوری صدر اور وزیراعظم نے حکمران جماعت آر سی ڈی سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔

ان کا یہ قدم ملک میں جاری مظاہروں کی شدت کم کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

آر سی ڈی عوامی بغاوت کے نتیجے میں تیونس سے فرار ہو کر سعودی عرب میں پناہ لینے والے سابق صدر زین العابدین بن علی کی جماعت ہے۔

زین العابدین بن علی کے فرار کے بعد تیونس کے وزیراعظم محمد غنوشی نے پیر کو ایک قومی حکومت کا اعلان کیا تھا جس میں سابق حکومت سے تعلق رکھنے والے چند وزراء بھی شامل تھے۔ انہوں نے حکومت میں سابقہ حکومت کے وزراء کی شمولیت کا دفاع کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ شفاف کردار کے مالک ہیں اور انہوں نے ہمیشہ قومی مفاد کو سامنے رکھ کے کام کیا ہے۔

مجھے خدشہ ہے کہ ہمارا انقلاب مجھ سے اور میرے عوام سے چھین لیا جائے گا۔ لوگ آزادی چاہتے ہیں اور یہ نئی حکومت آزاد نہیں، انہوں نے تو بائیس سال لوگوں کو دبا کر رکھا ہے

انیس مودود، مظاہرے میں شامل طالبعلم

تاہم ان وزراء کی حکومت میں شمولیت پر ملک میں منگل کو ایک بار پھر مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا اور حکومت میں شامل چار وزراء بھی احتجاجاً مستعفی ہوگئے تھے۔ مستعفی ہونے والے وزراء میں سے تین اس ٹریڈ یونین تحریک سے تعلق رکھتے ہیں جس نے حالیہ مظاہروں میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

تیونس کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ملک کے نگران صدر اور سابق سپیکر فواد میبازا اور سنہ انیس سو ننانوے سے ملک کے وزیراعظم غنوشی نے ’حکمران جماعت سے علیحدگی کا فیصلہ ریاست کو جماعت سے الگ رکھنے کے لیے کیا ہے‘۔

نئی قومی حکومت سے الگ ہونے والے وزراء میں ٹرانسپورٹ کے وزیرِ مملکت انور بن غیدور کے علاوہ عبدالجلیل بدوی اور حسین دماسی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ حکومت میں بطور وزیرِ صحت شامل کیے جانے والے حزبِ اختلاف کے رہنما مصطفٰی بن جعفر نے بھی اپنا عہدہ سنبھالنے سے انکار کیا ہے۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی

.منگل کو ہونے والے مظاہروں میں شامل افراد حکومت سے آر سی ڈی کے وزراء کی علیحدگی اور اس جماعت کو کالعدم دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ پولیس نے ان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

مظاہرے میں شامل ایک بائیس سالہ طالبعلم انیس مودود نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ’مجھے خدشہ ہے کہ ہمارا انقلاب مجھ سے اور میرے عوام سے چھین لیا جائے گا۔ لوگ آزادی چاہتے ہیں اور یہ نئی حکومت آزاد نہیں، انہوں نے تو بائیس سال لوگوں کو دبا کر رکھا ہے‘۔

تاہم اس احتجاج اور مظاہروں کے باوجود منگل کو تیونس میں قومی حکومت میں شامل کئی وزراء نے حلف اٹھایا جن میں پروگریسو ڈیموکریٹک پارٹی کے بانی نجیب چیبی بھی شامل تھے جنہیں وزیرِ ترقیات بنایا گیا ہے۔ ان کے علاوہ حلف اٹھانے والوں میں امورِ نوجوانان اور کھیل کے وزیر اور منحرف بلاگر سلیم امومو بھی تھے۔ سلیم امومو کو ملک میں حالیہ بحران کی ابتداء میں حراست میں لیا گیا تھا۔

ملک کے نگران صدر اور سابق سپیکر فواد میبازا اور سنہ انیس سو ننانوے سے ملک کے وزیراعظم غنوشی نے حکمران جماعت سے علیحدگی کا فیصلہ ریاست کو جماعت سے الگ رکھنے کے لیے کیا ہے۔

سرکاری ٹی وی

واضح رہے کہ تیونس میں بیروزگاری اور کر پشن کے خلاف گزشتہ تین ہفتوں سے جاری مظاہروں کے نتیجے میں صدر زین العابدین بن علی کو مستعفی ہونا پڑا تھا اور گزشتہ جمعہ کو وہ اپنے اہلخانہ کے ساتھ ملک چھوڑ کر سعودی عرب چلے گئے تھے اور وزیرِاعظم محمد غنوشی نے اقتدار سنبھال لیا تھا۔

زین العابدین بن علی سنہ انیس سو ستاسی سے اقتدار میں تھے۔ انھوں نے مظاہرے شروع ہونے کے بعد جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ وہ سال دو ہزار چودہ میں اقتدار چھوڑ دیں گے۔ تاہم مظاہرین کا، جن میں زیادہ نوجوان تھے، کہنا تھا کہ ملک میں جمہوریت اور تبدیلی کے لیے صدر کا جانا ضروری ہے

تیونس میں حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک میں ہونے والے حالیہ تشدد میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اٹھہتر ہے۔ حقوقِ انسانی کی تنظیمیں حالیہ بحران کے دوران درجنوں افراد کے مارے جانے کی بات کرتی رہی ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ تیونس حکومت کی جانب سے بھی اس بات کی تصدیق کی گئی ہے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔