ویلنٹائن ڈے: ذرا بچ کے بچ کے بچ کے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ملیشیا میں ویلنٹائن ڈے کے خلاف مہم سنہ دو ہزار پانچ میں ایک فتوے سے شروع ہوئی

ملیشیا میں مسلمانوں کو ویلنٹائن ڈے منانے سے روکنے کے لیے حالیہ دنوں میں جن کوششوں میں اضافہ ہوا ان میں ایک یہ تھی کہ ویلیٹائن ڈے ایک ’پھندا‘ ہے جس سے غیر اخلاقی رویے کی حوصلہ افزائی ہوسکتی ہے۔

لیکن ملیشیا میں تمام مسلمان اس خیال سے متفق نہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ویلنٹائن ڈے منانے میں کوئی ہرج نہیں اور اس سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔

البتہ ملیشیا میں نائب وزیرِ اعظم محی الدین یٰسین نے کہا کہ پیر چودہ فروری کو ’رومانوی محبت اور اس کی تقریبات مسلمانوں کے لیے مناسب نہیں۔‘

ملیشیا میں کئی ریاستوں نے ہوٹلوں میں تلاشی کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ نوجوان جوڑوں کو شادی سے پہلے سیکس سے روکا جائے۔

ویلنٹائن ڈے کے خلاف مہم سنہ دو ہزار پانچ میں ایک فتوے سے شروع ہوئی۔

جامعات میں پڑھنے والے مسلمان طلبا میں لیفلیٹ تقسیم کیے گئے ہیں جن میں ان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ پیر کو ویلنٹائن ڈے نہ منائیں۔

حکومتی سرپرستی میں چلنے والا اسلامی ترقی کے محکمے نے جو مذہبی پالیسیوں کا بھی ذمہ دار ہے، ’ویلنٹائن ڈے کے پھندے سے ہوشیار رہیے‘ کے نام سے ایک مہم شروع کی۔

تاہم دیگر مذاہب سرکاری طور پر ویلنٹائن ڈے کے بائیکاٹ سے متاثر نہیں ہیں۔

ملیشیا کی کل آبادی اٹھائیس ملین ہے جس میں دو تہائی مسلمان ہیں۔

اسی بارے میں