’خودکش بمبار پاکستان سے آتے ہیں‘

Image caption افغانستان میں حالیہ ہفتوں میں خودکش حملوں میں اضافہ ہوا ہے

پاکستان کی وزارت خارجہ نے افغانستان کےان الزامات کہ نوے فیصد خودکش بمبار پاکستان سے آتے ہیں پر محتاط رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

افغانستان کے خفیہ ادارے نیشنل انٹیلی جنس ایجنسی کے ترجمان لطف اللہ مشال نے سنیچر کو کابل میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ملک میں نوے فیصد خود کش بمبار پاکستان سے آتے ہیں۔

خودکش حملے میں تیس ہلاک

’طالبان سے مذاکرات، پاکستانی مدد درکار‘

ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ افغانیوں کی قلیل تعداد خود کش حملوں میں ملوث ہے اور وہ بھی پاکستان سے ہی تربیت اور سازوسامان حاصل کرتے ہیں۔

لطف اللہ مشال نے اس سلسلے میں حقانی نیٹ ورک، لشکر طیبہ، تحریک طالبان پاکستان کا نام لیتے ہوئے کہا کہ یہ ہی وہ گروپ ہیں جو خودکش حملہ آوروں کو تربیت دے کر افغانستان بھیجتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ باقی دس فیصد خودکش حملہ آور جو افغانستان میں تیار کیے جاتے ہیں ان کو بھی تحریک پاکستان سے ملتی ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کی ترجمان تہمینہ جنجوعہ نےافغانستان کے خفیہ ادارے کے ترجمان لطف اللہ مشال کی طرف سے لگائے گیے الزامات پر اپنے رد عمل میں کہا کہ ’میں اس وقت اس قسم کے کسی الزام جس کی مجھے کوئی خبر نہیں کے بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتی ہوں۔‘

نامہ نگار ذوالفقار علی کے مطابق وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ’ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہت اچھے ہوچکے ہیں اور یہ وقت نہیں ہم اس قسم کی کوئی بات کریں جس سے ہمارے تعلقات پر اثر پڑے اور ہم نہیں چاہیں گے کسی غیر ذمہ دارانہ بیان کی وجہ سے ہمارے باہمی تعلقات کو اثر پہنچے۔‘

ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات بہترین ہیں اور ہم ان تعلقات کو مزید بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

افغانستان میں پرتشدد واقعات

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters (audio)

افغانستان کے صوبے خوست میں سنیچر کو سڑک کنارے نصب بم پھٹنے سے کم از کم نو شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد ایک گاڑی میں سفر کر رہے تھے کہ ان کی گاڑی سڑک کنارے نصب بم یا بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی۔

دریں اثناء افغانستان کے شمال میں صوبہ فریاب میں ایک خودکش حملے میں کم از کم ایک شخص ہلاک ہو گیا ہے۔

حکام کے مطابق خودکش حملہ اس وقت ہوا جب گھڑ سواری کا روایتی کھیل بزکشی کھیلا جا رہا تھا۔

واضح رہے کہ افغانستان میں گزشتہ سال پرتشدد واقعات میں چوبیس سو عام شہری ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں