’افغانستان میں مذاکرات پر زور دیں‘

فائل فوٹو/ طالبان
Image caption طالبان کے خلاف جنگی مہم کامیاب نہیں ہورہی ہے

برطانوی ارکان پارلیمان کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی مزاحمت کو فوجی قوت سے کچلنے کی حکمت عملی کامیاب نہیں ہو رہی ہے اس لیے طالبان سے بات چیت کی جانی چاہیے۔

یہ رپورٹ برطانوی دارالعوام میں خارجی امور سے متعلق ایک کمیٹی نے مرتب کی ہے جس میں کہا گیا ہےاگر اس مسئلہ کا سیاسی حل کیا جانا ہے تو امریکہ کو طالبان سے مذاکرات کی کوششوں کو تیز کرنا ہو گا۔

برطانوی وزیر خارجہ لیم فوکس نے بھی افغنستان کے متعلق اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ اس وقت سیاسی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ افغانستان میں فوج کشی کرنے کا برطانیہ کے اندر سکیورٹی کی صورت حال کو بہتر بنانے کا مقصد بڑی حد تک پورا ہو گیا ہے کیونکہ افغانستان میں القاعدہ کی طاقت کم ہو گئی ہے۔

تاہم اس میں رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ دو ہزار پندرہ تک افغانستان سے برطانوی فوج کو واپس بلانے میں کئی خطرات بھی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اگر پاکستان، افغانستان، امریکہ اور طالبان کو ایک میز پر اکھٹا کر لیا جائے تو یہ برطانوی حکومت کی بڑی کامیابی ہو گیا۔

لیکن انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ان مذاکرات کو شروع کرنے میں بڑی دشواریاں پیش آ سکتی ہیں کیونکہ طالبان کا کوئی پتہ ٹھکانہ نہیں ہے۔

رچرڈ اوٹاونے کا کہنا تھا طالبان سے مذاکرات کے لیے امریکہ اپنی کوششیں تیز کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ’امریکہ طالبان قیادت کے ساتھ بات چیت میں شمولیت میں تاخیر نہ کرے کیونکہ اس معاملے میں بغیر امریکی حمایت کے افغانستان میں پائیدار امن نہیں ہو سکتا۔‘

انہوں نے کہا ’ہم اس بنیادی مفروضے پر سوال اٹھاتے ہیں کہ افغانستان میں کامیابی ایک واضح دفاعی حکمت عملی اور تعمیر نو سےملے گی۔‘

کمیٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ افغانستان کے حوالے سے موجودہ بحث میں القاعدہ اور طالبان کے درمیان فرق کو بھی اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے جو افغانستان میں مناسب پالیسی مرتب کرنے کے لیے بہت اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم حکومت کی اس دلیل پر بھی سوال اٹھاتے ہیں کہ شورش کا جواب پوری طاقت سے دینے سے، جو کہ طالبان کے خلاف ہے، القاعدہ کو باز رکھا جا سکےگا۔‘

ادھر وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے ایک بیان میں کہا ہے کہ برطانیہ اور افغانستان کے درمیان رشتے مضبوط رہے ہیں اور اب ’تبدیلی کے لیے سیاسی عمل کی ضرورت ہے۔‘

اسی بارے میں