طرابلس میں شدید فائرنگ، زاویہ میں ’شہری نشانے پر‘

باغی فوجی تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption باغی فوجی بحیرہ روم کے ساحل کے ساتھ ساتھ پیشقدمی کی کوشش کر رہے ہیں

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں شدید فائرنگ کی آواز سنی گئی ہے۔ بی بی سی کے ایک نامہ نگار کے مطابق میں شہر بھر سے مشین گن اور بھاری اسلحے کے استعمال کی آواز سنائی دی۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ فائرنگ کون کر رہا ہے لیکن کرنل قذافی کے خلاف مظاہرے شروع ہونے کے بعد یہ سب سےبھاری فائرنگ ہے۔

اس کے علاوہ کرنل معمر قذافی کے حامی فوجیوں نے اطلاعات کے مطابق دارالحکومت طرابلس کے قریب واقع شہر زاویہ پر قبضے کی کوشش کے دوران شہریوں کو اندھا دھند فائرنگ کا نشانہ بنایا ہے۔

سنیچر کی صبح ہونے والی شدید لڑائی کے بعد حکومتی فوج کے ٹینکوں کو شہر سے پسپائی اختیار کرنا پڑی تھی لیکن اطلاعات کے مطابق حکومتی افواج نے کمک ملنے کے بعد دوبارہ حملہ کیا۔

عینی شاہدین کی مطابق لڑائی میں کم سے کم تیس افراد جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ ان کی بیٹی بھی بقول ان کے کرائے کے فوجیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ گھر سے باہر نظر آنے والے ہر شخص کو نشانہ بنا رہے تھے۔

حکومت کے مخالفین نے تیل کی ترسیل کے لیے اہم لیبیائی شہر راس لانوف پر قبضے کا بھی دعوٰی کیا ہے۔ ان لڑائیوں میں بھاری جانی نقصان کی اطلاعات ہیں۔

مشرقی لیبیا میں کرنل قذافی کے مخالف فوجی بحیرہ روم کے ساحل کے ساتھ ساتھ سرت کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں جو کرنل قذ؛افی کے حامیوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ باغیوں نے سرت سے ایک سو پچاس کلومیٹر دور بن جواد نامی بستی پر قبضہ کر لیا ہے۔

دریں اثناء کرنل قذافی کی مخالف قوتوں نے بن غازی میں اپنی متوازی حکومت کو جس کے تحت ایک عبوری قومی کونسل بنائی گئی ہے، مستحکم کرنے کے لیے ملاقات کی۔ کونسل کے سربراہ مصطفیٰ عبدالجلیل نے کہا یہ کونسل لیبیا کی واحد نمائندہ تنظیم ہے۔

اس کے ساتھ ہی لیبیا میں کچھ برطانوی فوجیوں کی کرنل قدافی کے مخالفین کے ہاتھوں گرفتاری کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کے مطابق یہ فوجی ایک برطانوی سفیر کے ساتھ تھے جو لیبیا میں باغیوں کے ساتھ ملاقات کے لیے جا رہے تھے۔

اخبار کے مطابق باغی فوجیوں کو اعتراض تھا کہ برطانوی فوجیوں کے اس طرح بغیر اجازت آنے سے کرنل قذافی کو اپنے مخالفین کے خلاف پراپوگینڈے کا موقع مل جائے گا۔ برطانوی حکومت نے اس خبر کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

ادھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو لکھے گئے ایک خط میں لیبیا کے وزیر خارجہ موسٰی قوسی نے کہا ہے کہ نہتے مظاہرین پر طاقت کا استعمال نہیں کیا گیا البتہ ملک میں افراتفریحی پھیلانے والے عناصر کو دبانے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس خط میں اقوام متحدہ سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ان ممالک کے خلاف کھڑی ہو جو لیبیا کے خلاف فوجی طاقت استعمال کرنے کی بات کر رہے ہیں۔

لیبیا نے سابق وزیرِ خارجہ علی عبدالسلام ترکی کو اقوام متحدہ میں اپنا نیا سفیر بھی مقرر کیا ہے۔ لیبیا کے اقوام متحدہ میں سفیر عبدالرحمان شاہغلام نے لیبیا میں مظاہرین کے خلاف مبینہ عسکری قوت کے استعمال پر اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ امریکہ نئے سفیر کو نیویارک جانے کا ویزا جاری کرے گا یا نہیں۔

اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق لیبیا میں ہونے والی لڑائی میں ایک ہزار سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں جبکہ یو این ایچ سی آر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان حالات سے تنگ آ کر تیونس جانے والے افراد کی راہ میں حکومتی مسلح افواج حائل ہیں۔

ادارے کے مطابق لیبیا سے باہر نکلنے والے افراد کی تعداد میں اچانک کمی کی وجہ بھی یہی ہے۔ ہفتۂ رواں کے آغاز پر لیبیا سے کم از کم دس ہزار افراد باہر جا رہے تھے اور جمعرات کو اچانک یہ تعداد کم ہو کر دو ہزار رہ گئی تھی۔

اسی بارے میں