لیبیا: راس لانوف پر فضائی حملے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

لیبیا میں کرنل معمر قذافی کی حامی فوج نے مخالفین کے کنٹرول میں شہر راس لانوف میں ایک بار پھر ہوائی حملے کیے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق جنگی جہازوں نے اس حملے میں حصہ لیا اور رہائشی علاقوں اور صحرہ میں مخالفین کی پوزیشنوں پر میزائل داغے۔

تاہم ہلاکتوں کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

دوسری جانب قذافی مخالف کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کرنل قذافی کے نمائندے نے قذافی کے مستعفی ہونے کے حوالے سے مذاکرات کی پیش کش کی ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ مخالفین نے یہ پیش کش مسترد کردی ہے۔

قذافی کے مخالفین کی ٹرانزیشنل نیشنل کونسل کے جلال نے بی بی سی کو بتایا ’مستعفی ہونا ایک بات ہے لیکن مستعفی ہونے کے بعد مقدمات سے استثنیٰ کے حصول کی بات کرنا مختلف بات ہے۔‘

کونسل کے اس بیان پر کرنل قذافی کی جانب سے کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ لیکن ماضی میں معمر قذافی مستعفی ہونے سے انکار کر چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ مستعفی اس لیے نہیں ہو سکتے کہ ان کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں ہے۔

قذافی حامی فوج کا کہنا ہے کہ ان کو مخالفین کے خلاف اہم فوجی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔

پیر کو فوج نے شہر بن جواد مخالفین سے واپس کنٹرول میں لے لیا تھا۔ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے جنگی جہازوں، ہیلی کاپٹروں اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا تھا۔

دوسری جانب امریکی حکومت نے کہا ہے کہ وہ اب بھی لیبیا کی صورتحال کے جواب میں شمالی بحر اوقیانوس کے معاہدے میں شامل اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر فوجی کارروائی کے امکان پر غور کر رہی ہے۔

خلیج فارس کے عرب ممالک نے لیبیا میں فوجیوں کی طرف سے شہریوں کے خلاف تشدد کی مذمت کی ہے اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ لیبیا کی فضائی حدود میں پرواز پر پابندی لگائی جائے۔

برطانیہ نے تصدیق کی ہے کہ وہ سلامتی کونسل کے ارکان کے ساتھ مل کر لیبیا کی فضائی حدود کی بندش ے لیے قرارداد کی منظوری پر کام کر رہا ہے۔ تاہم روس نے کسی بھی فوجی کارروائی کی مخالت دہرائی ہے۔

اسی بارے میں